Categories
Breaking news

برطانیہ میں غیرقانونی تارکین وطن کی شرح تشویشناک حد کو چھونے لگی

Advertisement
Advertisement

راچڈیل (ہارون مرزا)برطانیہ میں غیر قانونی تارکین وطن کے داخلے کی شرح تشویشناک حد کو چھونے لگی گزشتہ 10یوم کے دوران 1ہزار سے زائدغیر قانونی مہاجرین سمندر کے راستے چھوٹی کشتیوں پر سوار ہو کر برطانیہ پہنچے 4سے 13اگست کے درمیان بارڈر سیکورٹی فورسز کے ذریعے برطانیہ کی سمندری حدود سے 1ہزار 4غیر قانونی تارکین وطن کو ساحل تک لایا گیا۔ رواں سال برطانیہ میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے والے تارکین وطن کی تعداد 4ہزار 511تک پہنچ گئی ہے جو 2019کی نسبت دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔ برطانوی ہوم آفس کے مطابق جمعرات کو پانچ کشتیوں کے ذریعے 89،جمعہ کو چار کشتیوں کے ذریعے 48افراد غیر قانونی طریقے سے برطانیہ میں داخل ہوئے، گزشتہ روز بھی 16 تارکین وطن برطانیہ پہنچے جن میں پانچ خواتین بھی شامل تھیں تارکین وطن نے کسی حادثے کی شکل میں ڈوبنے سے محفوظ رہنے کیلئے لائف جیکٹیں بھی پہن رکھی تھیں۔ برطانوی سیکیورٹی فورسز نے مہاجرین کی مدد کی اور انہیں سمندرسے ساحل تک لائے ۔امیگریشن وزیر کرس فلپ نے غیر قانونی مہاجرین کو روکنے کیلئے فرانسیسی عہدیداروں سے مل کر نئے جامع ایکشن پلان کی تیاری کا اعلان کیا ہے اس سلسلہ میں فضائی نگرانی کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ ہوم سیکرٹری پریتی پٹیل غیر قانونی مہاجرین کی نقل و حمل روکنے کیلئے اپنے فرانسیسی ہم منصب سے ملاقات میں تفصیلی بحث اور مستقبل میں مشترکہ کوششیں کرنے پر اتفاق کر چکی ہیں انہوں نے کہا کہ تھا کہ برطانوی ساحل سمندر کو غیر قانونی طریقے سے عبور کرنا غیر معمولی واقعہ ثابت ہوگا اور فرانس سے آنیوالے مہاجرین کو روکنے کیلئے مسلسل کوششیں کر رہی ہیں انہوں نے ٹوری ممبران کو بتایا تھا کہ قانونی اصلاحات لائی جا رہی ہیں انہوں نے انسانی حقوق کی مہم چلانے والوں اور وکلا کے تبصروں کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت صرف اپنا کام کر رہی ہے مہاجرین کیلئے محفوظ راستے مکمل طور پر بند کر دیے جائینگے۔ حراستی مراکز کی ڈائریکٹر بیلا سانکی نے سیکرٹری داخلہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ سیاست کر رہی ہیں کشتیوں کے ذریعے برطانیہ آنیوالوں میں بیشتر خواتین اور معصوم بچے شامل ہیں جن میں بعض ایسے بچے بھی ہیں جو پیدل چل بھی نہیں سکتے بد انتظامی کی صورتحال موجود ہے لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے اور مہاجرین کو تحفظ فراہم کرنے کی برطانوی روایت کیساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے یہ ظالمانہ سیاسی حکمت عملی ‘ تفرقہ انگیز اور غیر ضروری ہے ۔علاوہ ازیں برطانیہ میں داخل ہونیوالے غیر قانونی مہاجرین ملکی معیشت پر اضافی بوجھ بننے لگے ،برطانیہ میں داخلے بعد انہیں پناہ گزینوں کی حیثیت سے مفت رہائش ‘ تین وقت کا کھانا ‘ ہفتہ وار39.60پائونڈ اخراجات الائونس بھی دیا جا رہا ہے، ٹیکس دہندگان کے مذکورہ مہمان کی دیکھ بھال پر برطانوی حکومت کو بھاری سرمایہ خرچ کرنا پڑ رہا ہے، مذکورہ مہاجرین کی رہائش کیلئے کم از کم درجنوں ہوٹل استعمال کیے جا رہے ہیں ،ہوم آفس کے ساتھ ہوٹل مالکان کا 10بلین میں 10 سالہ معاہدہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس سے پچاس سے زائد ہوٹل مالکان کو فائدہ پہنچے گا مہاجرین کیلئے کم از کم بیس ہوٹلوں کو استعمال کیا جا رہاہے جن کی تعداد بڑھ کر 50تک پہنچ سکتی ہے انگلش چینل عبور کرنیوالے مہاجرین کی مہمان نوازی کیلئے برطانوی حکومت خطیر بجٹ استعمال کر رہی ہے۔برطانیہ میں گزشتہ 8 برسوں کے دوران غیر قانونی مہاجرین کی تعداد میں دو گنا اضافہ ہوا ہے اور یہ تعداد 20ہزار سے تجاوز کر کے 48ہزار تک پہنچ چکی ہے قومی آڈٹ آفس نے حال ہی میں ابتدائی ، قلیل مدتی ، رہائش میں مقیم پناہ گزینوں میں 96 فیصد اضافے کی نشاندہی کی ہے ۔دریں اثنابرطانیہ میں غیر قانونی مہاجرین کو اسمگلنگ کے ذریعے منتقل کرنیوالے بدنام زمانہ انسانی اسمگلرجسے دی بینکر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کے گروہ کے بارے میں اہم تفصیلات منظر عام پر آ گئیں۔ یہ تفصیلات اس وقت سامنے لائی گئی ہیں جب دس دنوں کے دوران ایک ہزار سے زائد مہاجرین برطانیہ میں منتقل ہوئے ہیں۔ تین انسانی اسمگلروں جن پر فی مہاجر تین ہزار پائونڈز کا معاوضہ لینے کا الزام تھا کو ایک آپریشن کے دوران حراست میں لیا گیا تھا ،سیکورٹی حکام کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ جنمیر احمد زئی‘ عمدہ جائی شنوار اور کوچائی جمعہ گل برطانیہ میں اپنے رفقاء سے مسلسل رابطے میں تھے ،ایک نامعلوم کنگپن جسے لی بائینکر کے نام سے جاتا تھا ہے بھی اس گھنائونے فعل میں شامل تھا جج ونسنٹ ناجلین نے فیصلے میں کہا کہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ لی بائینکر فون پر ہدایات جاری کرتا رہا فرانسیسی پولیس بھی اس گروہ کیخلاف ایک سال سے تحقیقات میں مشغول تھی۔ تینوں افراد کو برطانیہ میں غیر قانونی امیگرنٹس کی مدد کرنے کا قصوروار پایا گیا جس پر گل کو پانچ سال ‘ احمدزئی کو چار سال اور اس کے بھائی کو ایک سال کی قید سنائی گئی۔ مذکورہ گینگ کی سرگرمیوں کی تفصیلات اس وقت سامنے لائی گئی ہیں جب مبینہ طو رپر ایک حاملہ خاتون اور بچے سمیت دیگرمہاجرین کو پانچ کشتیوں میں برطانیہ منتقل کیا گیا، رواں سال برطانیہ میں آنیوالے مہاجرین نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *