Categories
Breaking news

برطانیہ، ہر بالغ شخص کو ستمبر تک کورونا وائرس سے بچائو کی ویکسین لگادی جائے گی، ڈومینک راب

Advertisement
Advertisement

لندن (سعید نیازی) برطانیہ میں ویکسین لگانے کا عمل کامیابی سے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے اور ہر بالغ شخص کو ستمبر تک ویکسین لگادی جائے گی اور اگر یہ عمل جون کے اختتام تک مکمل ہوگیا تو ’’بونس‘‘ ہوگا۔ اس بات کا اظہار فارن سیکرٹری ڈومینک راب نے ایک انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ فروری کے وسط تک15ملین اور موسم بہار تک17ملین افراد کو ویکسین لگادی جائے گی۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ مارچ میں کچھ پابندیوں میں کچھ نرمی کی جاسکتی ہے جب کہ این ایچ ایس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ سروس اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے۔ فارن سیکرٹری ڈومینک راب نے مزید کہا کہ وہ فائزر اور اسٹرا زینکا کی ویکسین سپلائی میں کسی تاخیر کے حوالے سے آگاہ نہیں اور یقین ہے کہ ویکسین کی مطلوبہ تعداد بروقت دستیاب ہوگی،یہ ایک چیلنج ہوگا جسے ہم حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وائرس کی نئی قسم زیادہ خطرناک ہے، اس لیے سفری پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں، اب تمام برطانیہ آنے والےمسافروں کو آنے سے قبل کورونا ٹیسٹ کرانا ہوگا اور برطانیہ پہنچ کر10دن قرنطینہ میں بھی گزارنا ہوں گے، ملک بھر میں گزشتہ روز سے10نئے سینٹرز بھی کھولے جارہے ہیں جہاں ہر ہفتہ مزید ہزاروں افراد کو ویکسین لگائی جائے گی، اس کے علاوہ آئندہ10روز میں تجرباتی بنیادوں پر بعض سینٹرز کو24گھنٹے ویکسی نیشن لگانے کیلئے کھلا رکھا جائے گا، دریں اثناء ہیلتھ سیکرٹری میٹ ہینکاک نے کہا کہ80برس سے زائد عمر کے نصف سے زائد افراد کو کورونا کی کم از کم ایک ویکسین لگادی گئی ہے اور ہر ایک منٹ میں140ویکسینز لگائی جارہی ہیں اور ہر ویکسین معمول کی زندگی کو قریب لانے کیلئے یہ ویکسین اہم ہے جب کہ نیشنل ہیلتھ سروس کے چیف ایگزیکٹو سر سائمن اسٹیون نے کہا ہے کہ شدید دبائو اور عملہ کی کمی کے سبب این ایچ ایس اپنی تاریخ کے مشکل ترین وقت سے گزر رہی ہے آئندہ10دنوں میں چند ہسپتالوں میں ہفتہ کے ساتوں دن اور24گھنٹے تجرباتی طور پر ویکسی نیشن کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کرسمس کے بعد15ہزار کوویڈ مریض ہسپتال لائے گئے، یہ تعداد 30 بھرے ہوئے ہسپتالوں کے مریضوں کے برابر تھی،ہر آدھے منٹ کے بعد ایک مریض کورونا کے سبب ہسپتال لایا گیا جس کا مطلب ہے کہ گزشتہ برس اپریل کی نسبت75فیصد زائد مریض ہسپتالوں میں موجود ہیں، انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر اس کی شرح بلند ہے، اس کے علاوہ60برس سے زائد عمر کے افراد بھی اس سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں، انہوں نے کہا کہ پہلی لہر کے بعد کریٹیکل کیئر وارڈز میں بیڈز کا50فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور ہسپتال بھرنے کے سبب مریضوں کی معمولی تعدادکو دیگر علاقوں کے ہسپتالوں میں بھیجا گیا ہے، سائمن اسٹیون نے کہا کہ کریٹیکل وارڈ میں ایک نرس نے ایک مریض کی بجائے تین مریضوں کی نگہداشت بھی کی لیکن دیکھ بھال کامعیار برقرار رکھا، انہوں نے کہا کہ وائرس کے سبب این ایچ ایس کا53ہزار کاعملہ غیر حاضر ہے، اب چار گنا تیز رفتاری سے ویکسین لگائی جارہی ہے، انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں داخل کوویڈ مریضوں کی ایک چوتھائی تعداد کی عمر50برس سے کم ہے۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *