Categories
Breaking news

بجٹ میں مختلف شعبوں کے لیے سبسڈی کی مد میں 682 ارب روپے مختص

بجٹ میں مختلف شعبوں کے لیے سبسڈی کی مد میں 682 ارب روپے مختص

آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں پاور سیکٹر، پٹرولیم، پاسکو، یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن، نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی اور کھاد سمیت مختلف شعبوں کے لیے سبسڈی کی مد میں 682 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

آئندہ مالی سال کے لیے مختص سبسڈی رواں مالی سال کے مقابلے میں 226 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم میٹرو بس سروس پر دی جانے والی سبسڈی آدھی کردی گئی ہے۔

بجٹ دستاویز کے مطابق مجموعی سبسڈی 209 ارب روپے سے بڑھاکر 682 ارب روپے کردی گئی ہے، پاور سیکٹر کی سبسڈی میں 457 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جو 139 ارب روپے 50 کروڑ روپے سے بڑھاکر 596 ارب روپے کی گئی ہے۔

بجٹ پرآئی ایم ایف کو اپنی شرائط پر قائل کرلیا، وزیراعظم

وزیر خزانہ شوکت ترین نے بتایا کہ لوگوں کا ڈیٹا آ گیا ہے، اب ذرائع آمدن بتانا پڑیں گے۔

بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو دی جانے والی سبسڈی 129 ارب روپے سے بڑھا کر 245 ارب روپے کردی گئی ہے۔ کے۔الیکٹرک کے لیے سبسڈی ساڑھے 10ارب روپے سے بڑھاکر 85 ارب روپے کردی گئی ہے۔

گردشی قرض کنٹرول میں رکھنے کے لیے بجٹ میں آئی پی پیز اور پاور ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کےلیے 266 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

وفاقی بجٹ میں عام آدمی کے لیے کیا ہے؟

موبائل فونز کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھانے کی تجویزرکھی گئی ہے ، 3 منٹ سے زائد فون کال پر ایکسائز ڈیوٹی لگائی جا رہی ہے، انٹرنیٹ کے استعمال اور ایس ایم ایس پر ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ کا بھی فیصلہ کیا گيا ہے۔

پٹرولیم سیکٹر کی سبسڈی 10 ارب روپے سے بڑھاکر 20 ارب روپے کی گئی ہے۔

یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے لیے سبسڈی 3 ارب سے بڑھاکر 6 ارب کردی گئی ہے۔

وزیراعظم نے انٹرنیٹ ڈیٹا پر ٹیکس مسترد کردیا

وزیر خزانہ شوکت ترین کا بجٹ تقریر کے دوران کہنا تھا کہ پچھلے کچھ عرصے میں ٹیلی مواصلات کے شعبے میں بہت ترقی ہوئی ہے۔

میٹرو بس سروس کی سبسڈی 2 ارب سے کم کرکے ایک ارب روپے کردی گئی ہے۔

کھاد سیکٹر کے لیے 6 ارب روپے، نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی 30 ارب رو پے اور نیا پاکستان قرضوں کےلیے مارک اپ پر 3 ارب روپے کی سبسڈی رکھی گئی ہے۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *