Categories
Breaking news

بارسلونا میں ایک اور بے دخلی کا عمل اقوام متحدہ کی مداخلت پر روک دیا گیا

بارسلونا (محمد نبی) لورا اور اس کی بیٹی بارسلونا کے قریب سیوتات ویلا کے ایک مرکزی فلیٹ میں رہائش پزیر ہیں۔ انہوں نے اب تک 3 بے دخلیوں کا سامنا کیا ہے۔ بے دخلی کی پہلی واردات جج کے حکم پر روک دی گئی تھی۔ جب کہ دوسری پڑوس کی حمایت کی وجہ سے عارضی طور پر مؤخر کر دی گئی تھی۔ منگل کے روز ان کی تیسری بے دخلی اقوام متحدہ کی طرف سے ڈالے گئے دباؤ کی وجہ سے ایک بار پھر ٹل گئی ہے۔

لورا اپنے شوہر کی طرف سے گھریلو تشدد کے باعث طلاق لے کر اپنی بیٹی کے ساتھ اس فلیٹ میں رہ رہی ہیں۔ وہ کام کرتی ہیں جو ایک مہینے میں ہزار یوروز سے بھی کم ہے۔ ان کا کرایہ 950 یوروز ہے جو تقریبا کل تنخواہ کے برابر ہے۔ قرضوں کی مد میں بھی ان پر کافی رقم واجب الادا ہے۔

مقامی انسداد انخلا باڈی، سندیکیت دی ہیبیتیج دیل کیسک اینتیک کے ذریعے لورا نے اقوام متحدہ کی اقتصادی ، سماجی اور ثقافتی حقوق سے متعلق کمیٹی سے رابطہ کیا تھا۔ اس سے قبل بھی کمیٹی نے شہر کے مرکزی فلیٹ میں رہائش پذیر ایک 84 سالہ شخص ایلجیندرو کو بے دخل کرنے سے روک دیا تھا۔ لارا کی بے دخلی کو روکنے کے لئے کمزوری اور بے کسی کا جواز پیش کیا گیا۔ دریں اثنا اس کی تصدیق سیٹی کونسل کی ایمرجنسی ہاؤسنگ بورڈ سے بھی ہو چکی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *