Categories
Breaking news

بارسلونا۔قیدی رہنماؤں نے معافی کے لئے رضا مندی ظاہرکر دی، اصل ہدف اب بھی عام معافی ہے

بارسلونا (محمد نبی) سابق کاتالان صدراوریل جانکیرا نے کہا ہے کہ وہ اپنے سمیت قید و بند کی سزا کاٹنے والے دیگر 8 سیاست دانوں کے لئے معافی کی حمایت کریں گے۔ وہ 4 سال سے جیل میں ہیں۔ ان پر اور دیگر رہنماؤں پر 2017 میں علیحدگی کی تحریک میں کردار ادا کرنے اور حصہ دار بننے کا الزام ہے۔ آنے والے ہفتوں میں ان کی معافی کے حوالے سے اہم فیصلہ ہونے جا رہا ہے۔ جس کی حمایت کونسل آف یورپ نے بھی کی ہے۔

قید سیاست دان اور ان کی پارٹیاں ایک عرصے سے یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ اسپین عامی معافی کا قانون تشکیل دے تاکہ علیحدگی مہم سے پیدا ہونے والی ایک دہائی سے عدالتی کاروائیوں کا کا خاتمہ کیا جا سکے۔ معافی سے وقتی طور پر قیدی رہنماؤں کو تو چھوٹ مل سکتی ہے مگر عام معافی (amnesty) نہ ہونے کی وجہ سے جلا وطن اور وہ رہنما جن پر فرد جرم عائد ہو چکا ہے، کو فائدہ نہیں ہوگا۔

پیر کے دن روز نامہ ایرا (Ara) میں چھپنے والے ایک آرٹکل میں جنکراس نے عام معافی کو ہی ترجیح دی ہے۔ تاہم انہوں نے اس حقیقیت کا اظہار بھی کیا کہ ہسپانوی حکومت معافی (pardon) پر بھی غور کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جبر و زیادتی میں نرمی لانے اور کاتالان معاشرے کے دکھ کو کم کرنے کے اشارے ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق کوئی بھی اشارہ خوش آئند ہوگا جو مسئلے کو عدالتی پیچیدگیوں سے باہر لے آئے۔

خیال رہے کہ جنکراس ایکسویرا پارٹی کے صدر ہیں۔ 14 فروری کے انتخابات میں ان کی پارٹی علیحدگی پسند کیمپ میں چلی گئی تھی۔ 3 مہینوں کی مسلسل بات چیت کے بعد گزشتہ ماہ سینئر عہدیدار پیرا آراگونس کاتالونیا کے صدر بن گئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *