Categories
Breaking news

این آر او کے بینیفشریز وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھے ہیں، محسن شاہنواز

Advertisement

رہنما مسلم لیگ ن محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا ہے کہ این آر او کے بینیفشریز وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھے ہیں، کچھ لوگوں نے ساتھ دینے کے لیے ہاتھ جوڑے ہیں، نام نہیں بتائیں گے۔

محسن شاہنواز رانجھا نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ شبلی فراز نے گری ہوئی حرکت کرتے ہوئے پارلیمانی روایات کی خلاف ورزی کی، ہمارے لیے لازم ہوگیا کہ حقائق سامنے لے آئیں، شہزاد اکبر نے ہمیں نیب کا مجوزہ مسودہ دیا، خیبرپختونخوا کی کرپشن کو کلین چٹ دینے کے لیے یہ بل قائمہ کمیٹی میں پڑا ہے۔

محسن شاہنواز رانجھا نے کہا ہے کہ اسپیکر کے کہنے پر شاہ محمود قریشی کی صدارت میں کمیٹی بنی، حکومتی صفوں میں کرپشن کے سنگین معاملات ہے جو خود این آر اومانگ رہے ہیں۔

اپوزیشن نے نیب کے معاملے پر 34 شقوں میں ترامیم کیں، شبلی فراز

وزیر اطلاعات نے کہا کہ نیب کی38 شقوں میں سے اپوزیشن نے 34 شقوں پر ترامیم پیش کیں، پہلی تبدیلی اپوزیشن نے کہی کے نیب کے قانون کی عملداری 1999 سے کی جائے،اس کا اصل فائدہ چودھری شوگر مل کیسز والوں کا ہوتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ آرڈیننس 28 دسمبر 2019 میں جاری ہوا، آرڈیننس حکومتی این آر او کا ثبوت ہے۔

محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا کہ بی آر ٹی منصوبے کواین آر او دینے کے لیے یہ آرڈیننس لایا گیا، بی آرٹی منصوبے میں کھربوں کے معاملات ہے اور لاگت بڑھائی گئی، وہ این آراو ہے، ہم نے مجوزہ بل کی حمایت سے انکار کر دیا۔

محسن شاہ نواز رانجھا نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا کہ نیب کو سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، اپوزیشن سے بدلہ لینے کے لیے ملک کے عوام کو مشکل میں ڈالا جارہا ہے۔

انہوں نےکہا کہ نیب کو صرف انتقامی کارروائی کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، ہم نیب کا سامنا کررہے ہیں اور تیار ہے۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *