Categories
Breaking news

ایمسٹرڈم نے یورپ کے سب سے بڑے تجارتی مرکز کی حیثیت سے لندن کو پیچھے چھوڑ دیا

Advertisement
Advertisement

لندن..ایمسٹرڈم نے یورپ کے سب سے بڑے تجارتی مرکز کی حیثیت سے لندن کو پیچھے چھوڑ دیا۔رپورٹ کے مطابق گذشتہ ماہ جب مالیاتی قوانین میں بریگز ٹ سے متعلق تبدیلیاں عمل میں آئیں تو نیدرلینڈ کا دارلحکومت سب سے بڑے مالیاتی تجارتی مرکز کے طور پر لندن سے آگے نکل گیا۔ سی بی او ای یورپ کےڈیٹاکے مطابق جو سب سے پہلے فنانشل ٹائمز نے شائع کئے ، جنوری میں سی بی او ای یورپ کے ڈچ ڈویژن اور ٹرکوئس ایکسچینج کے ساتھ یوروونسٹ ایمسٹرڈم پر اوسطا9.2 بلین یورو (8.1 بلین ڈالر) کے حصص کی تجارت ہوئی۔ بریگزٹ منتقلی کی مدت کے اختتام کے بعد ، امریکی بینک جو یورپی اسٹاک خریدنا چا ہیں گے وہ اب لندن کے راستے تجارت نہیں کرسکیں گے۔ٹرکوئس ٹریڈنگ پلیٹ فارم ، جوکہ لندن اسٹاک ایکسچینج گروپ کی ملکیت ہے ، پہلے ہی نیدرلینڈ چلا گیا تھا ، اور ریفرنڈم کے بعد سے تقریبا 7000 ملازمتیں برطانیہ سے یورپی یونین کے مالیاتی شعبے میں منتقل ہوچکی ہیں۔ اس تبدیلی کی وجہ یورپی یونین کا یہ موقف ہے کہ وہ برطانیہ کے ایکسچینجز کی وہ قائدانہ حیثیت تسلیم نہیں کرتا جو نیدرلینڈز ، فرانس اور جرمنی میں اس کے ہم منصبوں کی ہے۔کسی’’مساوی ‘‘ معاہدے کے بغیر ، تقریبا6.5بلین یورو ( 5.7 بلین پونڈز) کےسودے راتوں رات یورپی یونین منتقل ہو گئے۔ اس تبدیلی سے لندن شہرسے مزیدملازمتوں کے نقصان کا امکان نہیں ہے ، لیکن لندن اور برسلز کے مابین کشیدگی برقرار ہے کیوں کہ بینکاری ریگولیٹرز آئندہ کے قواعد کے بارے میں باہمی مفاہمت کی یادداشت کی چھان بین کر رہے ہیں۔بینک آف انگلینڈ کے گورنر اینڈریو بیلی نے بدھ کی شام انتباہ کیا تھا کہ برطانیہ کو یورپی یونین کے قوانین پر عمل کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا اور یہ کہ ایک قابل فہم ’’مساوی‘‘ معاہدہ تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ گورنر نے سالانہ مینشن ہاؤس تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یوروپی یونین نے دلیل دی ہے کہ اسے بہتر طور پر سمجھنا چاہئے کہ برطانیہ آگے بڑھنے کے لئے قواعد میں کس طرح ترمیم یا تبدیلی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسا معیار ہےجو یورپی یونین کے کسی دوسرےملک میں نہیں ہے اور ، مجھے شبہ ہے کہ وہ خود اس پر اتفاق نہیں کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے ایسی دنیا سے خوف آتا ہے جس میں یورپی یونین حکم دے اور اس بات کا تعین کرےکہ برطانیہ میں ہمارے کون سے قواعد و معیار درست کام نہیں کر رہے ہیں۔مسٹر بیلی نے یہ انتباہ بھی کیا ہے کہ برطانیہ کو ایک کم ٹیکس ، کم ریگولیشن والا ملک بننے سے گریز کرنا چاہئے اور کہا کہ یہ یورپی یونین کی غلطی ہوگی کہ وہ لندن کو اپنے مالیاتی نظام سے الگ کردے ۔ گورنر نے کہا کہ میں یہ پیش گوئی نہیں کرسکتا کہ اصل میں کیا ہوگا کیونکہ یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے ، لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اس دلیل کی وضاحت کرنا ہوگی کہ عالمی معیارات ، عالمی منڈیوں اور محفوظ کشادگی کا ہونا کیوں ضروری ہے۔ اور اگر ہم سب اس پر دستخط کرتے ہیں تو ، اس سمت میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ توقع ہے کہ مارچ میں برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان مالی خدمات کے سلسلے میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوں گے۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *