Categories
Breaking news

ایف آئی اے کا اختیارات سے تجاوز کیس: یکم مارچ کو حتمی دلائل طلب

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

صحافیوں اور شہریوں کےخلاف ایف آئی اے کے اختیارات سے تجاوز کے کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے یکم مارچ کو حتمی دلائل طلب کر لیے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللّٰہ نےایف آئی اے کے نوٹسز کے خلاف کیسز پر سماعت کی۔

جرنلسٹس ڈیفنس کمیٹی کی جانب سے وکلاء عثمان وڑائچ اور ایمان مزاری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

یقین دہانی کے باوجود ایف آئی اے نے اختیارات سے تجاوز کیوں کیا؟، ڈی جی سے رپورٹ طلب

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ایس اوپیز کی خلاف ورزی اور اختیارات سے تجاوز پر افسران کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔

عدالت نے استفسار کیا کہ ایف آئی اے کی جانب سے کون آیا ہے؟

ڈپٹی اٹارنی جنرل نےبتایا کہ ایف آئی اے کی جانب سے کوئی پیش نہیں ہوا، کچھ وقت دیا جائے۔

ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یکم ستمبر کو ایف آئی اے نے کہا کہ ایس او پیز بن چکے ہیں، جبکہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ بن رہے ہیں، ایف آئی اے کے 2 مؤقف ہیں کون سا مانا جائے؟

عثمان وڑائچ ایڈووکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ پیکا کے سیکشن 20 کی وضاحت فیصلے میں آ جائے تو بہتر ہے۔

ایف آئی اے نوٹسز سنسر شپ کی بدترین مثال ہے، جسٹس اطہر من اللّٰہ

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی ( ایف آئی اے ) کے نوٹسز سنسر شپ کی بدترین مثال ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ حتمی دلائل سن کر ان کیسز پر فیصلہ کر دیتے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ آئندہ سماعت پر فریقین کی التواء کی درخواست نہیں سنی جائے گی۔

عدالتِ عالیہ نے حتمی دلائل طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت یکم مارچ تک ملتوی کر دی۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *