Categories
Breaking news

اٹلی: نوجوان لڑکی کو غلطی سے کورونا ویکسین کے 6 ڈوز لگا دیے گئے

اس وقت اگرچہ دنیا کے متعدد ممالک میں کروڑوں لوگ کورونا سے تحفظ کی ویکسین کے ایک ڈوز کے لیے بھی ترس رہے ہیں، وہیں یورپی ملک اٹلی میں ایک نوجوان صحت مند لڑکی کو ایک نہیں بلکہ پورے 6 ڈوز لگا دیے گئے۔اٹلی کی ویب سائٹ دی لوکل کے مطابق اٹلی کے وسطی علاقے تسکانہ کے ایک ہسپتال میں نئی بھرتی ہونے والی نرس نے غلطی سے نوجوان لڑکی کو بیک وقت 6 ڈوز لگا دیے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹرینی نرس نے پہلے نوجوان لڑکی کو پیراسٹامول اور دیگر بخار اور درد کی ادویات دینے کے بعد فائزر و بائیو این ٹیک کے ویکسین کی پوری بوتل لگادی جو 6 ڈوز کے برابر ہوتی ہے، یعنی ایک بوتل سے 3 افراد کو ویکسین لگائی جا سکتی ہے۔اسی حوالے سے یورو نیوز نے بتایا کہ ٹرینی نرس نے غلطی سے 23 سالہ لڑکی کو ویکسین کی پوری بوتل لگائی، تاہم جلد ہی اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے سینئر افسران کو مطلع کیا، جس کے بعد ڈوز لگوانے والی لڑکی کو انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں منتقل کردیا گیا۔

رپورٹ میں مقامی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مذکورہ واقعہ 10 مئی کو پیش آیا اور فوری طور پر بیک وقت 6 ڈوز لگوانے والی لڑکی کی طبیعت میں کوئی نمایاں اور بڑی تبدیلی نہیں دیکھی گئی، البتہ ان کی جانب سے بخار اور جسم میں درد کی شکایات کی گئیں۔اسی حوالے سے سی بی ایس نیوز نے بتایا کہ ڈاکٹرز نے تصدیق کی کہ جس لڑکی کو کورونا سے تحفظ کی ویکسین کی پوری بوتل لگائی گئی، ان میں کوئی بڑی شکایات سامنے نہیں آئیں۔

رپورٹ میں ڈاکٹرز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مذکورہ لڑکی کو حفاظتی انتظامات کے تحت، بخار، الرجی اور سوزش سے محفوظ رکھنے والی ادویات دی جا رہی ہیں اور ان کی صحت کو مانیٹر کرنے کے لیے بار بار ان کے بلڈ ٹیسٹ بھی کیے جا رہے ہیں۔ڈاکٹرز کے مطابق بیک وقت حد سے زیادہ ڈوز لینے والے افراد کا مدافعتی نظام متاثر ہوسکتا ہے، اس لیے خاتون کو انتہائی نگہداشت میں رکھ کر ان کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے تاہم تاحال ان میں کوئی بڑی شکایت سامنے نہیں آئی۔

اٹلی سے قبل بیک وقت لوگوں کو مقررہ حد سے زیادہ ڈوز دیے جانے کی خبریں امریکا، جرمنی اور اسرائیل سے بھی سامنے آئی تھیں تاہم حد سے زیادہ ڈوز لینے والے افراد میں کسی بڑی صحت کی خرابی کی شکایات سامنے نہیں آئی تھیں۔گزشتہ ماہ اپریل میں امریکی ریاست لووا کی جیل میں درجنوں قیدیوں کو بیک وقت حد سے زیادہ ڈوز لگائے گئے تھے، جس کے بعد قیدیوں کی ویکسینیشن کرنے والے افراد کو معطل کردیا گیا تھا لیکن زائد ڈوز لگوانے والے قیدیوں میں کسی بڑی خرابی کی شکایت سامنے نہیں آئی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *