Categories
Breaking news

اٹلی۔کوروناوبا سےایک لاکھ سات ہزار افراد ہلاک،شادیوں اور بچوں کی پیدائش میں واضح کمی

Advertisement
Advertisement

یورپی ملک اٹلی میں کورونا کی وبا کے باعث شادیوں اور شرح پیدائش میں واضح کمی ہوئی ہے جبکہ جنازے بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔ اس المناک صورت حال کے نتیجے میں ملکی آبادی میں گزشتہ برس تقریباﹰ چار لاکھ کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

اٹلی کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں مجموعی آبادی کے تناسب سے کووڈ انیس کے باعث ہلاکتوں کی مجموعی شرح بہت زیادہ رہی ہے۔ اسی لیے اب وہاں ملکی آبادی کو ایسی صورت حال کا سامنا ہے، جسے ماہرین ‘ڈرا دینے والے حالات‘ کا نام دے رہے ہیں۔

بحیرہ روم کے کنارے واقع اس ملک میں کووڈ انیس کے باعث چند روز پہلے تک کُل ایک لاکھ سات ہزار افراد ہلاک ہو چکے تھے۔ یہ یورپ کے کسی بھی ملک میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاکتوں کی دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔ اس وبا کے باعث اٹلی سے زیادہ ہلاکتیں اب تک صرف برطانیہ میں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

آبادی میں کمی کا تیز رفتار رجحان
اٹلی کے قومی شماریاتی ادارے نے بتایا کہ 2020ء میں یکم جنوری سے لے کر اکتیس دسمبر تک کے عرصے میں شادیوں اور بچوں کی پیدائش میں واضح کمی اور کورونا کے باعث بے تحاشا انسانی اموات کے باعث ملکی آبادی میں تین لاکھ چوراسی ہزار کی کمی ہوئی۔

مارچ 2021ء کے وسط تک اٹلی میں کووڈ انیس کے باعث کُل ایک لاکھ سات ہزار افراد ہلاک ہو چکے تھےآبادی میں یہ کمی اتنی زیادہ ہے کہ یہ ٹسکنی کے اطالوی علاقے کے مشہور شہر فلورنس کی کُل آبادی کے تقریباﹰ برابر بنتی ہے۔

دنیا کے سات صنعتی ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہونے والے اٹلی میں مجموعی آبادی میں کمی کا رجحان یوں تو 2015ء سے جاری ہے مگر کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران اس ملک میں اتنا جانی نقصان ہوا ہے کہ آبادی میں کمی بہت تیز رفتار ہو گئی ہے۔

مجموعی آبادی اب 60 ملین سے کم
اطالوی دفتر شماریات کے مطابق ان عوامل کے باعث اٹلی کی کُل آبادی بھی کم ہو کر اب 60 ملین کی نفسیاتی طور پر اہم حد سے نیچے آ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک کی کُل آبادی اب 59.3 ملین کے قریب بنتی ہے۔

اس کے علاوہ گزشتہ برس ملک میں بچوں کی شرح پیدائش میں کمی کا ایک نیا ریکارڈ دیکھنے میں آیا۔ 2019ء میں ملک میں چار لاکھ بیس ہزار بچے پیدا ہوئے تھے۔ مگر 2020ء میں یہ تعداد 16 ہزار کی کمی کے بعد چار لاکھ چار ہزار رہ گئی۔

کچھ برس قبل تک سانت آليسيو کی کُل آبادی 330 افراد پر مشتمل تھی۔ ان ميں بھی اکثريت بوڑھے افراد کی تھی۔ چھوٹے چھوٹے بلاکوں کی مدد سے بنی ہوئی تنگ گلياں اکثر وبيشتر خالی دکھائی ديتی تھيں اور مکانات بھی خستہ حال ہوتے جا رہے تھے۔ گاؤں کے زيادہ تر لوگ ملازمت کے بہتر مواقع کی تلاش ميں آس پاس کے بڑے شہر منتقل ہو گئے تھے۔

یہی نہیں گ‍زشتہ برس ملک میں سالانہ بنیادوں پر شہری اموات کی تعداد میں 2019ء کے مقابلے میں تقریباﹰ 17 فیصد اضافہ ہوا اور ایک لاکھ بارہ ہزار شہری انتقال کر گئے۔ پچھلے سال اٹلی میں سالانہ اوسط سے نصف سے بھی کم تعداد میں شادیاں ہوئی تھیں۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *