Categories
Breaking news

آپ پیپلزپارٹی نہیں سندھ کو نظر انداز کررہے ہیں، مرتضیٰ وہاب

جنگ نیوز

ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب کا وفاقی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا ہے کہ یہ آپ پیپلزپارٹی نہیں سندھ کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے گزشتہ رات اسد عمر کی جانب سے دیئے گئے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کل اسد عمر نے کہا کہ سب ٹھیک ہے مگر تفصیلات نہیں دیں، بد قسمتی ہے کہ منصوبہ بندی کا وزیر سیاسی بیان دے رہا ہے اور تفصیلات نہیں، سوال کریں لیکن کاغذی ثبوت کے ساتھ بات کریں، وزیراعظم اپنے کسی وزیر کو سیاسی بیان بازی کے لیے نہ بھیجیں۔

وفاقی حکومت کی ذمےداری سندھ کے عوام کیلئے ہے، سندھ حکومت کیلئے نہیں،اسدعمر

اسد عمر نے کہا کہ انہیں اعتراض اس بات کا ہے کہ سندھ کےعوام پر براہ راست پیسا خرچ ہو رہا ہے، پیسا سندھ حکومت کے ہاتھوں سے نہیں جارہا، اگلا سرے محل کیسے بنے گا۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ آئین کے مطابق وفاق بھی سندھ کی ترقی میں متوازن حصہ ڈالےگا، بجٹ میں سندھ میں 17 اسکیمیں ڈالی گئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کیا آئین کے مطابق یہ غیرجانبدارانہ تقسیم ہے؟ سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کو 17 نئی اسکیمیں تجویز کی، وزیراعلیٰ نے50 فیصد فنڈز کی تجویز دی، آئین برابری کی بات کرتا ہے، آپ کا رویہ سندھ کے ساتھ درست نہیں۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ ہم نے 7 ارب روپے وفاق کو دیئے مگر انہوں نے اپنے حصے کے پیسے نہیں دیئے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہائی وے وفاق کا ہے انہوں نے نہیں بنایا، ایک عام آدمی یہ سمجھ نہیں سکتا کہ وفاق کی ذمہ داری یا صوبے کی۔

اسد عمر حقائق سے لاعلم وزیر ہیں، بیرسٹر مرتضیٰ وہاب

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اسد عمر جیسے وزیر ہوا میں بات کرینگے تو دیگر وزراء کا کیا حال ہوگا،اسد عمر صاحب گرین لائن منصوبے کا کریڈٹ لینے کی کوشش نہ کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عام آدمی سمجھتا ہے کہ پنجاب کا موٹر وے سندھ سے اچھا ہے، موٹر وے بنانا وفاق کی ذمہ داری ہے صوبے کی نہیں، سندھ حکومت کے کاموں سے موازنہ کیا جائے تو ہمارے منصوبے معیاری ہیں۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ بجائے اس کے کہ وہ فنڈ رکھتے انہوں نے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کا فیصلہ کیا، وفاق پنجاب میں موٹروے اپنے پیسوں سے بناتا ہے مگر سندھ میں نہیں، سندھ میں کل اسکیمیں 6 ہیں، یہ صوبہ 70 فیصد ریوینیو دیتا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی کے ٹریفک مسائل کا حل لیاری ایکسپریس وے کااستعمال ہے۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *