Categories
Breaking news

آرٹس کونسل کراچی میں میوزیکل پروگرام میں فنکاروں کا میلہ

Advertisement

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے صدر محمد احمد شاہ نے کہا کہ فیڈریشن کو مضبوط کرنے کے لئے علاقائی زبانوں اور کلچر کو اہمیت دی جائے تاکہ ملک کی اکائیوں کو احساس ہو کہ ان کے مسائل پر توجہ اور ان کو اہمیت دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اکائیوں کے اگر سارے مسائل حل نہ بھی ہوں تو ان کی احساس محرومی ختم کرنے کے لیے ریاستی سطح پر اقدامات کرنا لازمی ہے، یہ کام آرٹس کونسل نے شروع کیا ہوا ہے ہم نے اُردوکانفرنس میں علاقائی زبانوں کو اسی سوچ کے تحت شامل کیا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کی شام آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم پیدائش اور کرسمس کا کیک کاٹنے کے بعد پینل کی جشن کامیابی کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر کامیاب ہونے والے عہدیدار اور اراکین گورننگ باڈی بھی موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ آج ایک عظیم دن ہے، بابائے قوم کی سالگرہ ہے جنہوں نے ہمیں یہ ملک حاصل کر کے دیا۔اس دن ہمیں یہ عہد کرنا ہے کہ اس ملک کو بابائے قوم کے ویژن کے مطابق ترقی دیں گے۔انہوں نے کہا کہ آج کے دن ہم مسیحی برادری کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہیں جن کو ہمارے ملک میں میرے اور آپ جیسے پورے حقوق حاصل ہیں یہ سال بہت غم صدمے دے کر گیا ہے۔ ہمارے بہت سارے ممبر اور ساتھی کورونا وائرس کی وجہ سے وفات پا گئے لیکن ہم نے امید نہیں چھوڑی ،حوصلہ نہیں ٹوٹنے دیا۔انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تجدید عہد وفا کا دن ہے،ہم اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی نہیں بھولے اور نہ بھولیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں آرٹس کونسل کے تمام ممبران کا شکرز گزار ہوں جنہوں نے مجھ پر اور میرے ساتھیوں پر اعتماد کیا ہم آپ کی آرٹس کونسل کو بین الاقوامی ادارہ بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ جب ہم نے عالمی اُردو کانفرنس شروع کی تب ملک میں کوئی فیسٹیول نہیں ہوتا تھا اس کے بعد پورے ملک میں فیسٹیول ہونے لگے۔احمد شاہ نے کہا کہ بارہ اُردو کانفرنس کو وہ پذیرائی نہیں ملی جو تیرہویں اُردو کانفرنس کو ملی اس کانفرنس کی کارروائی انٹرنیٹ پر پوری دنیا نے دیکھی، ہم نے علاقائی زبانوں اور کلچر کو اس کانفرنس میں شامل کر کے ملک میں نفرتوں کو ختم کرنے کی کوشش کی اور ایسی کوشش جاری رکھیں گے۔بعد ازاں موسیقی کا پروگرام منعقد ہوا جس میں عارف انصاری، ڈاکٹر ہما میر، یونس جانی، شبیر ضیاء، کاشیہ کیف، وقاص بابر امجد رانا، ایم افراہیم اور دیگر نے گانے گائے پروگرام دیر تک جاری رہا۔

Advertisement
Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *