Categories
Breaking news

آذربائیجان نے آرمینیا سے شوشا شہر کا قبضہ 28 سال بعد چھڑ الیا

Advertisement
Advertisement

آذربائیجان نے آرمینیا سے شوشا شہر کا قبضہ 28 سال بعد  چھڑ الیا

باکو: آذربائیجان نے آرمینیا سے شوشا شہر کا قبضہ چھڑ الیا۔ باکو میں فتح کا جشن منایا گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق آذربائیجان کے مقبوضہ پہاڑی علاقے قاراباغ کے مرکزی حیثیت کے حامل علاقے شُوشا پر 28 سال بعد آرمینیا کا قبضہ ختم کرایا گیا۔ شوشا پر آرمینیا کا قبضہ ختم ہونے پر ترک صدر طیب ایردوان نے آذربائیجان کو مبارکباد دی۔

آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف کے اعلان کے بعد آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں شہریوں نے فتح کا جشن منایا۔

شوشا پر آرمینیا کا قبضہ ختم ہونے پر ترکی میں بھی خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر مصطفیٰ شن توپ نے فتح شُوشا کے لیے جاری کردہ پیغام میں کہا ہے کہ “شُوشا آذربائیجان کا ہے۔ اللہ مبارک کرے”۔

مصطفیٰ شن توپ نے بیان میں آذربائیجان کے صدر الہام علییف کے اس بیان کی بھی یاد دہانی کروائی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ 28 سال بعد شوشا میں اذان کی آواز گونجے گی۔

ترکی کے جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے ترجمان عمر چیلک نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ “آذربائیجان کی فوج نے پہاڑی قارا باغ کی آزادی میں کلیدی اہمیت کے حامل شہر شوشا کو آرمینی قبضے سے رہا کروا لیا ہے۔ برادر ملک آذربائیجان کو فتح مبارک ہو”۔

دونوں ممالک کے درمیان 27 ستمبر سے شروع ہونے والی اس کشیدگی کے باعث سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے۔

دو ہفتے قبل امریکہ نے دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر کا دعویٰ کیا تھا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے جنگ بندی معاہدے پر عمل پیرا ہونے پر اتفاق کیا اس جنگ بندی معاہدے سے بہت سی جانیں بچ جائیں گی۔

اس سے قبل روس کی جانب سے بھی دونوں ممالک کے درمیان 10 گھنٹے کے طویل کامیاب مذاکرات کا دعویٰ کیا تھا لیکن معاملات جوں کے توں رہے اور حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔

آذربائیجان اور آرمینیا کے وزرائے خارجہ کی مذاکرات کے لیے ماسکو میں پہلی باضابطہ ملاقات ہوئی تھی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے روسی صدر کی دعوت پر مذاکرات کیے تھے تاہم مذاکرات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی نہیں ہو سکی تھی۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *