Categories
Breaking news

آذربائیجان سے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخظ، آرمینیا کے وزیراعظم کے خلاف شدید احتجاج

Advertisement

آذربائیجان آرمینیا جنگ بندی

نیگورنو-کاراباخ میں 6 ہفتوں کی لڑائی کے بعد آذربائیجان سے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخظ کرنے پر آرمینیا کے وزیراعظم کے خلاف شدید احتجاج اور استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔

Advertisement

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ہزاروں مظاہرین ‘نیکول غدار’ کے نعرے لگاتے ہوئے منصب سے الگ ہونے کا مطالبہ کررہے تھے۔

آرمینیا کے دارالحکومت یریوان میں ہزاروں افراد نے پارلیمنٹ کی طرف مارچ کیا لیکن پولیس نے انہیں روکا تاہم مظاہرین نے ‘نیکول استعفیٰ دے دو’ کے نعرے لگائے۔‎

عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے کئی مظاہرین کو گرفتار کیا گیا لیکن تاحال جھڑپوں یا نقصان کے حوالے سے کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

خیال رہے کہ 10 نومبر کو آرمینیا اور آذربائیجان نے بدترین لڑائی کے بعد جنگ بندی کے معاہدے کو اعلان کیا تھا اور آذربائیجان میں اس کو فتح کے طور پر منایا گیا تھا۔

روس کے ساتھ ہوئے معاہدے میں آذربائیجان کے نیگورنو۔کاراباخ خطے میں جاری لڑائی روکنے کے اعلان کے ساتھ تقریبا 2 ہزار روسی فوجیوں کو قیام امن کے لیے علاقے میں تعینات کرنے اور علاقوں سے آرمینیا کا قبضہ ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

آرمینیا کے وزیراعظم نے اس کو سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ شکست کے آثار کو دیکھتے ہوئے اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔

ایک روز بعد مظاہرین نے سڑکوں پر مارشل لا طرز پابندی کو روندتے ہوئے ریلیاں نکالیں اور وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ کیا جبکہ چند ایک سرکاری عمارتوں کو نذر آتش بھی کیا۔

آرمینیا میں کورونا وائرس کے کیسز میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اسی لیے کئی مظاہرین نے ماسک پہنا ہوا تھا۔

واضح رہے کہ جنگ بندی معاہدے کے بعد عالمی سطح پر تسلیم شدہ آذربائیجان کے علاقے نیگورنو-کاراباخ میں لڑائی ختم ہوگئی ہے۔

معاہدے کے تحت روس کے 2 ہزار فوجی امن کے قیام کے لیے خطے میں تعینات ہوں گے جہاں 1990 کی دہائی میں ہونے والی لڑائی کے بعد آرمینیا کا قبضہ تھا لیکن اب حالیہ لڑائی میں اکثریتی علاقے سے محروم ہوچکا ہے۔

آرمینیا کے وزیراعظم نے کہا تھا کہ میں نے امن معاہدے کو اپنی فوج کے دباؤ پر حتمی شکل دی، نیگورنو-کاراباخ کی قیادت کا کہنا تھا کہ خطے کے دوسرے بڑے شہر شوشا پر قبضے کے بعد پورے علاقے پر آذربائیجان کے قبضے کا خدشہ ہے۔

نیکول پیشینیان نے معاہدے کے بعد کہا تھا کہ ‘یہ بہت بڑی ناکامی اور سانحہ ہے’ اور اس ناکامی کی ذاتی طو پر ذمہ داری لیتا ہوں لیکن استعفے کے مطالبے کو مسترد کردیا۔

آرمینیا کے وزیراعظم نے دارالحکومت میں شروع ہونے والے مظاہروں کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا تاہم اپوزیشن کی 17 جماعتوں کی جانب سے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا تھا جن کے اکثر رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

دوسری جانب خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے روس کے فوجی بھی روانہ ہوگئے ہیں اور آرمینیا کو نیگورنو-کاراباخ سے ملانے والی لیچن راہداری میں تعینات ہوں گے۔

معاہدے کے مطابق روس کی امن فوج 5 برس تک موجود رہے گی جبکہ روس اور آرمینیا کے درمیان پہلے سے ہی دفاعی معاہدہ ہے۔

ترکی نے آذربائیجان کے اتحادی کی حیثیت سے اس جنگ بندی کے معاہدے پر کوئی کردار ادا نہیں کیا تاہم روس اور ترکی نے مشترکہ طور پر نگرانی کے ایک معاہدہ پر دستخط کیا۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ نیگورنو-کاراباخ میں قیام امن کے لیے دونوں ممالک مل کرکام کریں گے۔

ادھر آذربائیجان نے جنگ بندی معاہدے کو اپنی فتح قرار دیا جبکہ شہریوں کی ایک تعداد دلبرداشتہ بھی ہے کہ فوج کی مزید علاقوں پر قبضے کی پیش قدمی کو روک دیا گیا ہے۔

آذربائیجان کے شہریوں کو امن فوج کی حیثیت سے روس کی آمد پر بھی خدشات ہیں جبکہ روس پورے خطے میں بااثر ملک ہے۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *