Categories
Breaking news

اومیکرون کے خلاف سائنوفارم کی نئی پروٹین کووڈ ویکسین بہتر تحفظ فراہم کرتی ہے

اومیکرونچینی کمپنی سائنوفارم نے کہا ہے کہ اس کی نئی پروٹین کووڈ 19 ویکسین کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کے خلاف زیادہ بہتر تحفظ فراہم کرتی ہے۔

یہ نئی ویکسین کورونا وائرس کے اسپائیک پروٹین کے حصوں پر مبنی ہے اور اسے متحدہ عرب امارات میں بوسٹر ڈوز کے طور پر استعمال کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

یو اے ای میں 18 سو افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سائنوفارم کی پرانی ان ایکٹیو کووڈ ویکسین کی 2 خوراکیں استعمال کرنے کے 6 ماہ بعد اس نئی ویکسین کو بطور بوسٹر ڈوز استعمال سے اومیکرون کے خلاف اینٹی باڈیز سرگرمیوں میں مقابلے میں 7 گنا اضافہ ہوتا ہے۔

نئی تحقیق کے نتائج اس وقت سامنے آئے ہیں جب سائنوفارم ویکسین کی اومیکرون کے خلاف افادیت کے حوالے سے تحفظات سامنے آئے تھے۔

این وی ایس آئی 06-07 نامی پروٹین ویکسین کی تیاری کے لیے بی بی آئی بی پی کور وی کے مقابلے میں مختلف ٹیکنالوجی کو اپنایا گیا تھا۔

اس ویکسین میں کورونا وائرس کے اسپائیک پروٹین کو استعمال کیا گیا تاکہ جسم وائرس کو شناخت کرکے اس کا زیادہ بہتر طریقے سے مقابلہ کرسکے۔

ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی سے کورونا کی متعدد اقسام کے خلاف تحفظ مل سکے گا۔

تحقیق کے دوران سائنوفارم کی پرانی ویکسین استعمال کرنے کے 6 ماہ بعد 192 صحت مند افراد کو نئی ویکسین کو بوسٹر ڈوز کے طور پر استعمال کرایا گیا تو اومیکرون کے خلاف لڑنے والی اینٹی باڈیز کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوگیا۔

تحقیق کے مطابق اس سے لوگوں کو اومیکروں سے ہونے والی بیماری سے زیادہ تحفظ مل سکے گا۔

یو اے ای میں اس نئی ویکسین کو 18 سال سے زائد عمر کے افراد کو اس صورت میں استعمال کرایاج ائے گا جب ان کو سائنوفارم ویکسین کی 2 خوراکیں استعمال کیے 6 ماہ سے زیادہ عرصہ ہوچکا ہوگا۔

اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے بلکہ آن لائن پری پرنٹ سرور پر جاری کیے گئے۔

اس سے قبل 20 دسمبر کو چینی ماہرین نے سائنو فارم کی پرانی ویکسین کی تیسری خوراک کے اومیکرون پر مرتب اثرات کے نتائج جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ابتدائی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بوسٹر ڈوز بھی اومیکرون سے زیادہ تحفظ فراہم نہیں کرتا۔

شنگھائی جیاؤ تانگ یونیورسٹی اور وبائی امراض پر تحقیق کرنے والے ادارے کی مشترکہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ سائنوفارم کا تیسرا ڈوز اومیکرون کے خلاف محض 20 فیصد اینٹی باڈیز تیار کرنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کورونا کی پہلی قسم کے مقابلے اومیکرون کی قسم پر سائنو فارم ویکسین کی افادیت انتہائی کم ہے اور دوسرے ڈوز لگوانے کے 9 ماہ بعد تیسرا ڈوز لگوانے سے بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑ رہا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.