Categories
Breaking news

اومیکرون کے خلاف بوسٹر ڈوز لگوانا لازمی

اومیکرون کے خلاف  بوسٹر ڈوز لگوانا لازمی ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کے خلاف قوت مدافعت کے لیے ویکسین کی تیسری خوراک لازمی ہے جس کے بغیر بیماری سے بچنا مشکل ہوگا۔

ریگن انسٹیٹوٹ آف ایم جی ایچ، ایم آئی ٹی اور ہارورڈ یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا کہ اومیکرون کے خلاف لوگوں میں مدافعت پیدا کرنے کے لیے موڈرنا یا فائزر ویکسین کی اضافی خوراک کی ضرورت ہوگی۔

تحقیق میں عندیہ دیا گیا کہ کووڈ 19 کی 2 خوراکوں سے اتنی اینٹی باڈیز نہیں بن پاتیں جو اومیکرون کو شناخت اور ناکارہ بنانے کے لیے درکار ہوتی ہیں۔

نومبر2021 کے آخر میں جنوبی افریقہ میں دریافت ہونے والی کورونا کی اس قسم کے بارے میں لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ موجودہ ویکسینز سے بیماری سے کس حد تک تحفظ مل سکتا ہے۔

اس سوال کا جواب جاننے کے لیے محققین نے اومیکرون کا ایک بے ضرر ورژن تیار کیا تاکہ لیبارٹری میں امریکا میں استعمال ہونے والی 3 کووڈ ویکسینز یعنی فائزر، موڈرنا اور جانسن اینڈ جانسن ویکسینز کی افادیت کی جانچ پڑتال کی جاسکے۔

اس کے بعد محققین نے ویکسینیشن مکمل کرانے والے 239 افراد کے خون کے نمونوں کو حاصل کیا جن میں 70افراد ایسے تھے جن کو فائزر یا موڈرنا ویکسین کا بوسٹر ڈوز استعمال کرایا جاچکا تھا۔

ان نمونوں میں اومیکرون، ڈیلٹا اور دیگر اقسام کے خلاف ویکسینز سے بننے والی مدافعت کو جانچا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ویکسین کی 2 خوراکیں اومیکرون قسم کو ناکارہ بنانے کے حوالے سے بہت کم مؤثر ثابت ہوئیں حالانکہ ایسے افراد کے نمونے بھی تحقیق کا حصہ تھے جن کی ویکسینیشن حال ہی میں ہوئی تھی۔

تحقیق کے مطابق جن افراد کو فائزر یا موڈرنا ویکسین کی3 خوراکیں استعمال کرائی گئی تھیں ان میں اومیکرون کو ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی سطح بہت زیادہ نمایاں تھی۔

یہ واضح نہیں کہ بوسٹر ڈوز سے اومیکرون کے خلاف مدافعتی تحفظ میں ڈرامائی بہتری کیوں آتی ہے مگر محققین کے خیال میں اس کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہے کہ ویکسین کی اضافی خوراک سے بننے والی اینٹی باڈیز زیادہ سختی سے اسپائیک پروٹین کو جکڑتی ہیں جس سے ویکسین کی افادیت بڑھ جاتی ہے۔

اسی طرح ایک بوسٹر ڈوز اینٹی باڈیز بناتی ہے جو اسپائیک پروٹین کے ان حصوں کو ہدف بناتی ہیں جو کورونا کی تمام اقسام میں عام ہیں مگر اس حوالے سے تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

تحقیق کے نتائج میں عندیہ دیا گیا کہ ویکسین کی اضافی خوراک 16 سال یا اس سے زائد عمر کے تمام افراد کے لیے موزوں ہیں اور اس حوالے سے ایم آر این اے ویکسینز کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل سیل میں شائع ہوئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *