Categories
Breaking news

اومیکرون سے ہونے والی بیماری کی شدت ڈیلٹا کے مقابلے میں معمولی ہوتی ہے: ڈبلیو ایچ او

اومیکرون سے ری انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، ڈبلیو ایچ او

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ ابتدائی ڈیٹا سے عندیہ ملتا ہے کہ کورونا کی قسم اومیکرون دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے ایسے افراد کو متاثر کرسکتی ہے جو ماضی میں اس بیماری کو شکست دے چکے ہوتے ہیں یا ویکسنیشن کرا چکے ہیں، مگر اس سے ہونے والی بیماری کی شدت معمولی…

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی افریقہ سے سامنے آنے والے ڈیٹا سے اومیکرون قسم سے ری انفیکشن کے خطرے میں اضافے کا عندیہ ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے بھی کچھ شواہد موجود ہیں جن کے مطابق اومیکرون سے ہونے والی بیماری کی شدت ڈیلٹا کے مقابلے میں معمولی ہوتی ہے۔

مگر انہوں نے زور دیا کہ کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچنے کے لیے مزید ڈیٹا کی ضرورت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ہر جگہ مانیٹرنگ کو بڑھانے سے یہ جاننے میں مدد مل سکے گی کہ اومیکرون کس حد تک دیگر اقسام سے مختلف یا خطرناک ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ اگر اومیکرون سے متاثر افراد کی شدت معمولی ثابت ہو بھی جائے تو بھی وائرس کے حوالے سے غفلت برتنا خطرناک ہوسکتا ہے کیونکہ اس کے باعث ہلاکتیں ہوسکتی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے ایمرجنسیز ڈائریکٹر مائیکل ریان نے کہا کہ اب تک کے ڈیٹا سے عندیہ ملتا ہے کہ کورونا کی یہ نئی قسم زیادہ متعدی ہے بلکہ ڈیلٹا کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیل سکتی ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وائرس کو روکنا ممکن نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وائرس نے اپنے پھیلاؤ کے لیے خود کو زیادہ بہتر بنایا ہے اور اسی لیے ہمیں پھیلاؤ کے چینز کو روکنے کے لیے کوششوں کو دگنا کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چاہے یہ نئی قسم دیگر اقسام کے مقابلے میں کم خطرناک ہی کیوں نہ ثابت ہو، اگر وہ بہت تیزی سے پھیل سکتی ہے تو وہ زیادہ افراد کو بیمار کرے گی جس سے طبی نظام پر بوجھ بڑھے گا۔

عالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے ویکسیشن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چاہے ویکسینز اومیکرون کے خلاف کم مؤثر ہی کیوں نہ ثابت ہوں، جیسا کچھ ڈیٹا سے عندیہ ملتا ہے، مگر توقع ہے کہ اس سے بیماری کی سنگین شدت کے خلاف نمایاں تحفظ ملے گا۔

ڈبلیو ایچ او کی چیف سائنسدان سومیا سوامی ناتھن نے ابتدائی تحقیقی رپورٹس پر شدید ردعمل پر انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت تحقیقی رپورٹس چھوٹے پیمانے پر ہوئی ہیں اور وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی سطح میں کمی کے نتائج مختلف تحقیقی رپورٹس میں مختلف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان میں محض وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز پر توجہ مرکوز کی گئی مگر ہم جانتے ہیں کہ مدافعتی نظام اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے کیال میں یہ نتیجہ نکالنا قبل از وقت ہوگا کہ اینٹی باڈی ردعمل میں کمی ویکسینز کی افادیت میں نمایاں کمی کا باعث ہے، ابھی ہم اس بارے میں کچھ نہیں جانتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *