Categories
Breaking news

انصاف کی فراہمی میں تاخیر کا کیس، مشیر داخلہ شہزاد اکبر طلب

Advertisement

اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہریوں کو انصاف کی فراہمی میں تاخیر کے کیس میں مشیر داخلہ شہزاد اکبر کو 24 دسمبر کو ذاتی حیثیت میں عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے شہریوں کو انصاف کی فراہمی میں تاخیر سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل سے مکالمے کے دوران چیف جسٹس اطہر من الله نے ریمارکس دیئے کہ آئین میں لکھا ہے جلد اور فوری انصاف ہر شہری کو فراہم کیا جائے گا، عدالتیں دیکھ لیں آپ نے کس حال میں بنا رکھی ہیں اور شہریوں کو وہاں کتنے مسائل ہیں۔

شہزاد اکبر کا نون لیگ کو استعفوں سے متعلق مفت مشورہ

وزیراعظم عمران خان کے مشیر احتساب و داخلہ شہزاد اکبر نے مسلم لیگ نون کو استعفوں سے متعلق مفت مشورہ دے ڈالا۔

چیف جسٹس نے آئین کامسودہ دکھاتےہوئےاستفسار کیا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل صاحب بتائیں یہ آئین کب آیا تھا؟ اس پرڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ یہ آئین 1973 ءمیں آیا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آئین میں لکھا ہے جلد اور فوری انصاف ہر شہری کو فراہم کیا جائے گا،آپ جو رپورٹس جمع کراتے ہیں ان سےکوئی دلچسپی نہیں، عملاًبتائیں کیا کیا؟

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ انصاف کی فراہمی میں تمام رکاوٹیں ریاست کی طرف سے ہیں اور الزام عدالتوں پر آتا ہے، ریاست فوری انصاف کی فراہمی کی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے۔

چیف جسٹس ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ 10دن کا وقت ہے ہمیں کوئی عملی حل بتائیں ورنہ اعلیٰ ترین عہدیدار کو طلب کریں گے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ وفاقی دارالحکومت ہے جس کو ماڈل ہونا چاہیے تھا، بار کونسل سمیت فریقین نے جو تجاویز دی تھیں ان پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا ہے۔

عدالت عالیہ نے وزیراعظم کے مشیر داخلہ شہزاد اکبر کو 24 دسمبر کو ذاتی حیثیت میں عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *