Categories
Breaking news

انتخابی مہم چلانے کی ضرورت نہیں، ہم نے ہی تو پاور میں آنا ہے، عمران خان کا دعویٰ

انتخابی مہم چلانے کی ضرورت نہیں، ہم نے ہی تو پاور میں آنا ہے، عمران خان کا دعویٰ

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے کہا ہے کہ سرمایہ کار کا پاکستان پر اعتماد صرف الیکشن کرانے سے بحال ہوگا۔

کراچی میں سیمینار سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں عمران خان نے دعویٰ کیا کہ میں نے تو پاور میں آنا ہی ہے، انہیں تو الیکشن مہم چلانے کی بھی ضرورت نہیں۔

عمران خان کے لانگ مارچ، دھرنے کا مقصد آرمی چیف تقرری پر اثر انداز ہونا ہے، شاہد خاقان عباسی

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ عمران خان کے دھرنے اور لانگ مارچ کا واحد مقصد آرمی چیف کی تقرری پر اثر انداز ہونا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے ہی کہا تھا حکومت ہمیں ڈیفالٹ کی طرف لےجائے گی، انہیں خوف آرہا ہے کہ حکمران پاکستان کو وہاں لے جائیں گے جہاں سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے گا۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے مزید کہا کہ جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا، کوئی بھی آجائے معیشت ٹھیک نہیں کرسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی جینیئس آجائے، سیاسی استحکام کے بغیر ملکی معیشت ٹھیک نہیں ہوسکتی، سرمایہ کار کا اعتماد صرف الیکشن کرانے سے بحال ہوگا، فوری طور پر صاف اور شفاف الیکشن کروائے جائیں۔

نئے آرمی چیف کا تقرر اگلے 48 گھنٹے کی بات ہے، خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف کا تقرر 48 اگلے گھنٹے کی بات ہے۔

عمران خان نے یہ بھی کہا کہ پارلیمانی سسٹم میں دو تہائی اکثریت نہ ہو تو آپ کچھ نہیں کرسکتے، ایسی حکومت آنی چاہیے جو بھاری اکثریت سے آئے۔

انہوں نے کہا کہ پہلا مطالبہ ہے صاف شفاف الیکشن ہوں، الیکشن کے نتیجے میں حکومت واضح اکثریت سے آنی چاہیے، قانون کی عمل داری تک گورننس ٹھیک نہیں ہوسکتی۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ہم ٹیکنالوجی لانا چاہتے تھے تاکہ ٹیکس وصولی بڑھائیں، ہر سال ایف بی آر اندر سے سبوتاژ ہوتا تھا، لوگ ٹیکنالوجی نہیں لانے دیتے تھے۔

شہباز شریف سے ملاقات کیلئے آصف زرداری کی وزیراعظم ہاؤس آمد

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری شہباز شریف سے ملاقات کےلیے وزیراعظم ہاؤس پہنچ گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ماضی میں ایکسپورٹس بڑھانے پر توجہ نہیں دی، اگر سعودی عرب، یو اے ای اور چین مدد نہ کرتا تو ادائیگی کےلیے وسائل نہیں تھے۔

عمران خان نے کہا کہ کورونا کا کرائسس بھی بہت بڑا تھا، اس دوران مکمل لاک ڈاؤن لگادیتے تو یہاں لوگوں نے بھوک سے مرجانا تھا، دوست ممالک مدد نہ کرتے تو مشکل ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ کورونا کے دور میں ہم نے بہت بہترین فیصلے کیے، آئی ایم ایف کی ہیڈ کو بہت مشکل سے قائل کیا کہ ہمیں ادائیگیوں میں ریلیف دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب سے یہ دو خاندان آئے ہیں ملک نیچے جانا شروع ہوا، میں نے پہلےکہا تھا کہ جو حکومت آئی ہے وہ ہمیں ڈیفالٹ کی طرف لے جائے گی۔

عمران خان نے کہا کہ جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا، کوئی بھی آجائے معیشت ٹھیک نہیں کرسکتا، سیاسی عدم استحکام میں سرمایہ کار پیسا نہیں لگاتے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف معاشی چیلنجز دوسری طرف ملک میں قانون کی بالادستی نہیں ہے، پارلیمانی سسٹم میں ایک تہائی اکثریت نہ ہو تو آپ کچھ نہیں کرسکتے۔

پی ٹی آئی سربراہ نے کہا کہ پاکستان میں ہر جگہ مافیاز بیٹھے ہیں، سب سے بڑا مافیا رئیل اسٹیٹ مافیا ہے، ہم نے ایکسپورٹرز کےلیے رکاوٹوں کو ختم کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ معاشی مسائل کا حل قانون کی حکمرانی سے جڑا ہے، دریا، جنگلات اور زرعی زمین بیچ دی گئی اور پیسا باہر گیا، صرف اسلام آباد کی 1200 ارب کی زمین پر قبضہ ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہم سے غلطی ہوئی، ایمنسٹی صرف انڈسٹریز کو دینی چاہیے تھی، ہمیں حکومت میں آتے ساتھ ہی روس سے تیل لینا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے روس سے تیل خریدنے کےلیے بھرپور زور لگایا، مجھے یقین ہے کہ ہم امریکیوں کو قائل کرسکتے تھے کہ ہمیں سستا تیل لینے دیں۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *