Categories
Breaking news

امریکا اور روس کا یوکرین کے معاملے پر سخت تنازع سے بچنے کیلئے پرعزم

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف اور امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن

روس اور امریکا نے یوکرین کے معاملے پر کسی سخت تنازع سے بچنے کے عزم کا اظہار کیا ہے جس کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے درمیان براہ راست بات چیت کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق گزشتہ روز امریکی اور روسی وزرائے خارجہ نے سویڈن میں یورپ میں سلامتی و تعاون تنظیم (او ایس سی ای) کے اجلاس کے موقع پر ملاقات کی۔

ملاقات میں یوکرین اور اس کے مغربی اتحادیوں کی جانب سے اس الزام پر بات چیت کی گئی کہ روس رواں موسم سرما میں یوکرین پر حملہ کرسکتا ہے۔

روس نے اس الزام کی سختی سے تردید کرتے ہوئے نیٹو پر کشیدگی کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا ہے۔

واضح رہے کہ مغربی طاقتیں روس کی جانب سے یوکرین کی سرحد پر فوج جمع کرنے پر کئی ہفتوں سے تشویش کا اظہار کرتی آرہی ہیں۔

روس کی جانب سے اس حالیہ اقدام نے خطے میں موجود تناؤ میں مزید اضافہ کردیا ہے، خطے میں جاری تنازع میں اب تک 13 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہی۔

روس نے 2014 میں یوکرین کے کنٹرول میں موجود کریمیا پر قبضہ کرلیا تھا، اس کے علاوہ روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف لڑنے والے علیحدگی پسندوں کی بھی مدد کی جاتی ہے۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے گزشتہ روز امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن کے ساتھ ملاقات کے بعد مشرق کی جانب نیٹو کی پیش قدمی روکنے کے لیے روس کی سرحدوں پر ’طویل مدتی سیکیورٹی کی ضمانت‘ کا مطالبہ کیا تھا۔

سرگئی لاروف نے خبردار کیا کہ یورپ میں ’فوجی تصادم کی خوفناک صورتحال جنم لے سکتی ہے‘۔

امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ اس بات کا ’امکان موجود ہے کہ مستقبل قریب میں دونوں ممالک کے صدور براہ راست بات چیت کریں گے‘۔

روس کی جانب سے بھی آنے والے دنوں میں ولادی میر پیوٹن اور جو بائیڈن کے درمیان ’رابطے‘ کی امید کا اظہار کیا گیا ہے۔

روسی خبر رساں اداروں کے مطابق روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف کا کہنا تھا کہ ’ابھی تاریخ کا تعین نہیں ہوا ہے۔ اس وقت دونوں سربراہان کے معمولات کے حوالے سے کچھ مشکلات پیش آرہی ہیں لیکن یہ رابطہ ہونا بہت ضروری ہے، ہماری مشکلات بڑھتی ہی جارہی ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’دوطرفہ معاملات پر کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی اور معاملات بحرانی صورتحال کی جانب جارہے ہیں، یورپ میں کشیدگی کم کرنے لیے اس وقت کسی قسم کی باہمی افہام و تفہیم کی صورت نظر نہیں آرہی‘۔

انہوں نے کہا کہ ’یورپ میں صورتحال بہت تشویش ناک ہے‘ اور ’یہ بات واضح ہے کہ صدور کی سطح پر ہونے والی بات چیت میں یہ ایک اہم موضوع ہوگا‘۔

اسٹاک ہوم میں یورپ میں سلامتی و تعاون تنظیم کے اجلاس کے دوران سرگئی لاروف نے الزام عائد کیا کہ نیٹو اپنے عسکری انفرااسٹرکچر کو روسی سرحدوں کے قریب لارہا ہے۔

دوسری جانب انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ ’امریکا کو یوکرین میں دوبارہ جارحیت کے روسی عزائم کے حوالے سے خدشات ہیں‘۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ’روس تصادم کو طول دینے کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا‘۔

تاہم انٹونی بلنکن نے ایک مصالحتی انداز اختیار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ امریکا، مِنسک امن معاہدے کے ’مکمل نفاذ‘ میں ’مدد‘ کرنے کے لیے تیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بحران سے نمٹنے کا بہترین حل سفارت کاری میں ہی ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ مِنسک معاہدہ 2014 میں کریمیا کے روس کے ساتھ الحاق کے بعد عمل میں آیا تھا، اس کا مقصد مشرقی یوکرین میں روس نواز علیحدگی پسندوں کے ساتھ تنازع کو حل کرنا تھا تاہم اس معاہدے کو کبھی نافذ نہیں کیا جاسکا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.