Categories
Breaking news

امریکا، ایکسپائر ہوتی ویکسین بیوی کو لگانے والا پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹر نوکری سے فارغ

Advertisement

پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹر کو کوویڈ-19 ویکسین سے متعلق حکام کی ہدایات پر سختی سے عمل کرنا مہنگا پڑگیا۔ویکسین کی کُھلی شیشی میں بچ جانے والی 10 خوراکیں اور چھ گھنٹے میں expire ہونے کی سر پر لٹکتی تلوار پر ڈاکٹر نے ویکسین کے اہل افراد کو ڈھونڈنے کے لئے گھنٹوں گھوڑے دوڑائے۔ناکامی پر ویکسین کی آخری خوراک بیوی کو دینا پڑی تو حکام نے پروٹوکول کی خلاف ورزی کے تحت ڈاکٹر کے سر ویکسین چوری کا الزام دھرتے ہوئے ڈاکٹر کو سرکاری نوکری سے برطرف کردیا۔
امریکی اخبار کے مطابق ریاست ٹیکساس کے شہر شوگرلینڈ سے تعلق رکھنے والے اڑتالیس سالہ ڈاکٹر حسن گوکل کورونا وبا کے پھیلنے کے بعد گزشتہ برس اپریل سے ہیرس کاونٹی کے پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کی کووڈنائنٹن ریسپانس ٹیم کا حصہ تھے۔
دسمبر میں انہیں حکام کی جانب سے بریفنگ دی گئی جس میں حال ہی میں منظور شدہ ویکسین Moderna کے استعمال کے قواعد و ضوابط سے آگاہ کیا گیا۔ جس کے تحت ویکسین کی ایک شیشی میں موجود دس خوراکوں کو شیشی کھولنے کے چھ گھنٹوں کے اندر استعمال کرنا ضروری ہے۔
ڈاکٹر گوکل کا کہنا ہے کہ انہیں سختی سے ہدایات دی گئیں تھیں کہ قیمتی ویکسین کا ایک بھی قطرہ ضائع نہ کیا جائے۔دسمبر میں ہیوسٹن میں ایک ویکسین ایونٹ کے دوران ویکسین کی ایک شیشی کھولنے کے بعد، ڈاکٹر حسن گوکل کے پاس کووڈ نائنٹین کی دس خوراکیں بچ گئیں تھیں جو اگلے چھ گھنٹوں میں زائد المعیاد ہونیوالی تھیں۔
ڈاکٹر گوکل کو انہیں فوری استعمال کرنا ضروری تھا۔ انہوں نے ویکسین کے اہل افراد کو ڈھونڈنے کی پوری کوشش کی۔ انہوں نے اخری خوراک پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا اپنی بیوی کو دی اور ساٹھ سال سے زائد عمر کے دیگر افراد کو ویکسین دے دی۔ اپنے سپروائزر کو اس کی تفصیلات جمع کروادیں۔پروٹوکول کی خلاف ورزی پر ہیرس کاونٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس نے ان پر ایک سو پینتیس ڈالر مالیت کی ویکسین کی دس خوارکیں چرانے کی فرد جرم عائد کی۔
اٹارنی آفس نے کہا کہ انہوں نے اپنی حیثیت کا ناجائز استعمال کیا اور قانونی طور پر ویکیسن کے حقیقی حقداروں پر اپنے عزیز و اقارب کو فوقیت دی۔ بعد میں، الزمات بے بنیاد ہونے کے باعث ان پر سے کیس خارج کردیا گیا لیکن بدنامی کی وجہ سے وہ دوبارہ نوکری کے حصول میں ناکام رہے۔ اوراب تک بیروزگار ہیں۔
دوسری جانب ڈاکٹر گوکل کا کہنا ہے کہ یہ ان کی زندگی کے بدترین لمحات ہیں، سب کچھ برباد ہوگیا ہے۔ ان بے بنیاد الزامات سے ہونیوالی بدنامی نے ان کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

Advertisement
Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *