Categories
Breaking news

امارات سے معاہدہ ہوتے ہی اسرائیلی جنگی جہاز کہاں پہنچ ہوگئے؟ بڑی خبر نے سب کو چونکا دیا

Advertisement
Advertisement

 اسرائیلی جنگی جہازیہ دور رس مضمرات کی حامل پیش رفت ہے، فلسطینی عوام کے جائز حقوق انہیں دیے جائیں۔

تفصیلات کے مطابق تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیارے جرمنی پہنچے ہیں جہاں پر وہ جرمن فضائیہ کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں حصہ لیں گے۔

دوسری جانب ایک خبر کے مطابق اردن کے وزیرِ خارجہ ایمن سفادی نے کہا ہے کہ وہ نہ تو اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہیں اور نہ اسے مسترد کریں گے۔ متحدہ عرب امارات کے پڑوسی ملک عمان نے اسرائیل اور اماراتی حکومت کے درمیان تعلقات کے استوار کرنے کا خیر مقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کیا جا سکے گا۔

بحرین نے بھی کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے تاریخی اقدام سے خطے میں امن کی کوششیں مضبوط ہوں گی۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش کے ترجمان کا معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں سلامتی اور امن کی کوششوں میں معاون ہر اقدام کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ پاکستان نے کہا ہے کہ ہم نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی مکمل بحالی کے معاہدے کا مشترکہ بیان دیکھا ہے، یہ دور رس مضمرات کی حامل پیش رفت ہے، فلسطینی عوام کے جائز حقوق انہیں دیے جائیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے پختہ عہد پر کاربند رہا ہے کہ فلسطین کے عوام کے تمام جائز حقوق انہیں دیے جائیں۔ جس میں استصواب رائے کا حق بھی شامل ہے۔ مشرق وسطی میں امن و استحکام بھی پاکستان کی کلیدی ترجیح ہے۔

ترجمان نے کہا کہ منصفانہ، جامع و پائیدارا من کے لیے پاکستان نے اقوام متحدہ اور ’او آئی سی‘ کی متعلقہ قراردادوں اور عالمی قانون کے مطابق ہمیشہ دو ریاستی حل کی حمایت کی ہے۔ پاکستان اس تجزیے سے رہنمائی حاصل کرے گا کہ کیسے فلسطینیوں کے حقوق اور امنگوں کو مقدم رکھا جاتا ہے اور کس طرح سے علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کی پاس داری کی جاتی ہے۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے حریف ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اسرائیل کی یہودی آبادکاری کی مخالفت اب بھی کرتا ہوں اور صدر بننے پر بھی کروں گا۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطی میں مزید استحکام کے لیے معاہدہ تاریخی اقدام ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے متحدہ عرب امارات سے باہمی تعلقات کا معاہدہ طے پانے کے باوجود مغربی کنارے کو اسرائیل میں شامل کرنے کا منصوبہ ختم نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے متحدہ عرب امارات سے معاہدے کے ایک روز بعد ہی اپنے بیان میں مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے سے متعلق اہم بیان دیا۔انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات سے باہمی تعلقات کے معاہدے کے تحت وہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے منصوبے میں تاخیر پر رضا مند ہیں لیکن یہ منصوبہ اب بھی ان کی ٹیبل پر موجود ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے ٹی وی پر خطاب میں کہا کہ انہوں نے صرف اس منصوبے میں تاخیر پر رضا مندی ظاہر کی تھی لیکن وہ اپنے حقوق اور اپنے زمین کے لیے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی خودمختاری کو بڑھانے کے منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، مغربی کنارے کے علاقوں میں امریکا کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ہماری خودمختاری ہے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شہزادہ محمد بن زاید النہیان کی جانب سے ٹوئٹر پر بیان جاری کیا گیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ یو اے ای نے اسرائیل کے مغربی کنارے کے علاقوں کو ضم کرنے کے منصوبے کا جائزہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی علاقوں کو مزید اسرائیل میں ضم کرنے سے روکنے کے لیے ایک معاہدہ کیا گیا۔ فلسطینی اسلامی گروپ حماس نے کہا کہ اس معاہدے سے فلسطینی کاز میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ‘امن معاہدے ’ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ‘اس سے فلسطین کے مقاصد پورے نہیں ہوتے ۔’ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ دراصل ‘متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدہ اسرائیلی قبضے اور جرائم کا صلہ ہے ۔مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہاس سے مشرق وسطی میں امن لانے میں مدد ملے گی۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *