Categories
Breaking news

اسپین کا تعلیمی نظام طلباء کو ایک ایسی دنیا کے لئے تیار کر رہا ہے جو اب کہیں وجود نہیں رکھتی، PISA رپورٹ کے بانی کا انٹرویو

میڈرڈ (محمد نبی) تعلیم سے متعلق کی جانے والی بین الاقوامی سطح کی سب سے بڑی اور پر اثر تحقیق PISA report کے خالق Andreas Schleicher نے کہا ہے کہ اسپین کا نظام تعلیم طلباء کو ایک ایسی دینا کے لئے تیار کر رہا ہے جو کہیں موجود نہیں ہے۔ ایک انٹریو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کا ہسنپانوی تعلیم اصلاحات کے بارے میں کیا خیال ہے؟ تو انہوں نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا “اسپین جس زاویے پر آرہا ہے، وہ دنیا کے کئی ممالک سے مل رہا ہے۔ آج کل نوجوانوں کی قابلیت جانچنے کا پیمانہ یہ نہیں کہ ان سے پوچھا جائے کہ وہ جو کچھ جانتے ہیں، دوبارہ بیان کریں۔ بلکہ ان سے کہا جائے: جو کچھ آپ جانتے ہیں، کیا اس کے بارے میں کچھ فہم رکھتے ہو؟ کیا آپ اپنے علم کو کہیں لاگو کر سکتے ہیں؟”

انہوں نے ہسپانوی نصاب کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا “اسپین میں موجودہ نصاب، مجھے کہنے دیجیے، ایک کلو میٹر لمبا اور ایک سینٹی میٹر موٹا ہے، میرا نہیں خیال کہ یہ طلباء کے لئے بہتر ہے۔ مستقبل میں اسپین کو چاہئے کہ کم چیزیں پڑھائے مگر گہرائی میں جا کر پڑھائے۔ تاکہ چیزوں کی زیادہ سے زیادہ سمجھ آ سکے۔ فیزکس اور کیمسٹری کے علم کا صرف انبار آپ کے کام نہیں آ سکتا۔ سوال یہ ہے: کیا آپ ایک سائنسدان کی طرح سوچ سکتے ہیں؟ کیا آپ ایک تجربہ ترتیب دے سکتے ہیں؟”

انہوں نے اسی سوال کے جواب میں کہا “صرف سائنسی مضامین کو اس طرح پڑھانا نہیں بلکہ تاریخ کے ساتھ بھی یہی ہونا چاہئے۔ سارے نام اور مقامات یاد رکھنا معاون نہیں ہو سکتا۔ سوال یہ ہے: کیا آپ ایک تاریخ دان کی طرح سوچ سکتے ہیں؟ کیا آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ایک سماج کا بیان کس طرح پیدا ہوتا ہے اور کن ارتقائی مراحل سے گزرتا ہے؟”انہوں نے کہا کہ سکول کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ نوجوانوں کو حکمت عملی اور رویے بخشے جن کی مدد سے وہ نہ صرف ہر روز کچھ نیا سیکھیں بلکہ سمجھے ہوئے کو ترک کرنا، دوبارہ سمجھنا بھی سیکھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *