Categories
Breaking news

اسلام آباد: جلسوں کے باعث ریڈ زون سِیل کرنے کا فیصلہ

حکومت اور اپوزیشن کے جلسوں کے باعث وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ریڈ زون کو سِیل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔

انتظامیہ کی جانب سے ریڈ زون کے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں، آمد و رفت کے لیے مارگلہ روڈ، ایوب چوک، سرینا چوک کے متبادل راستے دستیاب ہیں۔

سرکاری اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ

سرکاری اسپتالوں، پولیس اور انتظامیہ کے اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں۔

اسلام آباد کا ریڈ زون میدانِ جنگ بن گیا

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سرکاری ملازمین کے احتجاج اور پولیس کی شیلنگ کے باعث میدان جنگ بن گیا ہے ، کنٹینر لگاکر ڈی چوک کو بند کردیا گیا ہے ۔

پولیس نے 12 ہزار کی اضافی نفری دارالحکومت اسلام آباد منگوانے کی سمری دے دی۔

راولپنڈی ڈویژن میں سرکاری اداروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

احکامات کے حوالے سے نوٹیفکیشن کمشنر راولپنڈی ڈویژن نورالامین مینگل نے جاری کیا ہے ۔

ریسکیو 1122، صحت کی سہولتیں فراہم کرنے والے ادارے، سول ڈیفنس کو ہائی الرٹ رہنے کاحکم دیا گیا ہے۔

یہ احکامات کسی بھی ممکنہ صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے جاری کیے گئے ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق تمام معاملات کی رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر کمشنر دفتر کو بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بہترین رابطے رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

حکومت و اپوزیشن کو جلسے کی اجازت

واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں حکومتی و اپوزیشن جماعت کو کل جلسہ کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔

جے یو آئی ایف کو سیکٹر ایچ نائن میں جلسے کی اجازت دی گئی ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان کل وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں جلسہ کریں گے۔

ریلیوں کی آمد

کل کے جلسے میں شرکت کے لیے وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کی قیادت میں کارکنوں کی ریلی اسلام آباد پہنچ گئی، کارکنوں نے آئی ٹین میں پڑاؤ کیا ہے جنہیں وہاں ناشتہ بھی کرایا گیا۔

اسلام آباد سے تمام رکاوٹوں کو ہٹا دیا گیا

ٹریفک پولیس کے مطابق ریڈزون آنے اور جانے کےلئے ایکسپریس چوک بند ہے، شہری متبادل کے طور پر ایوب چوک اور نادرا چوک استعمال کریں۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کل کے جلسے کے حوالے سے کہنا ہے کہ کراچی اور گلگت بلتستان سے قافلے اسلام آباد کے جلسے میں شرکت کے لیےرواں دواں ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے مذہب کارڈ کی بجائے انسانیت اور اخلاقیات پر مبنی سیاست پر زور دیا ہے۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Leave a Reply

Your email address will not be published.