Categories
Breaking news

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایڈیشنل اینڈ سیشن جج جہانگیر اعوان کو معطل کر دیا

Advertisement
Advertisement

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایڈیشنل اینڈ سیشن جج جہانگیر اعوان کو معطل کر دیا

ہائی کورٹ نے ایڈیشنل اینڈ سیشن جج جہانگیر اعوان کو معطل کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد، ریڈ زون میں جھگڑے اور فائرنگ کے معاملے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایڈیشنل اینڈ سیشن جج جہانگیر اعوان کو معطل کر دیا۔

رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ نے جہانگیر اعوان کی معطلی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا۔

ذرایع کے مطابق زخمی ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد کی میڈیکو لیگل رپورٹ بھی تیار ہو گئی ہے، جس میں جج جہانگیر اعوان پر تشدد کی تصدیق کی گئی، پولی کلینک انتظامیہ نے رپورٹ پولیس کے حوالے کر دی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہانگیر اعوان کے بائیں پیر کی چھوٹی انگلی میں فریکچر ہے، بائیں پیر میں سوجن بھی پائی گئی ہے، بائیں آنکھ کے اوپر خراش ہے، ناک پر زخم ہے، چہرے پر خراشیں ہیں، ہونٹ پر بھی خراشیں پائی گئیں۔

دریں اثنا، ایڈیشنل سیشن جج تشدد کیس کے سلسلے میں جہانگیر اعوان کی ایف آئی آر کے اندراج کے لیے دائر درخواست پر ایڈیشنل سیشن جج فیضان گیلانی نے سماعت کی، انھوں نے ریمارکس میں کہا یہ ایک عجیب واقعہ ہے، معاملہ بہت ہی سنگین ہے۔

عدالت نے ایس ایچ او تھانہ سیکریٹریٹ کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا، عدالت نے حکم جاری کیا کہ 16 ستمبر کو ایس ایچ او تھانہ سیکریٹریٹ ریکارڈ سمیت پیش ہوں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز وفاقی دارالحکومت میں واقع شاہراہ دستور پر رکن صوبائی اسمبلی عابدہ راجا کے شوہر نے ایڈیشنل سیشن جج ملک جہانگیر اعوان کو تشدد کا نشانہ بنا دیا تھا۔

دفتر خارجہ کے قریب واقع پیٹرول پمپ پر دو گاڑیوں میں بیٹھے افراد میں پہلے جانے کے معاملے پر تکرار ہوئی جو ہاتھا پائی میں تبدیل ہو گئی۔

ایک گاڑی کے ڈرائیور کی شناخت چوہدری خرم کے نام سے ہوئی تھی جو عابدہ راجا کے شوہر ہیں، جھگڑے کے وقت تحریک انصاف کی رکن صوبائی اسمبلی بھی گاڑی میں موجود تھی جب کہ دوسری گاڑی میں ایڈیشنل سیشن جج ملک جہانگیر بیٹھے تھے۔

دونوں گاڑیاں جب دفتر خارجہ کے آفس کے قریب پہنچی تو عابدہ راجا کے شوہر چوہدری خرم پیٹرول پمپ پر گاڑی سے اتر کر ایڈیشنل سیشن جج کی کار کے قریب گئے اور اُن پر حملہ آور ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *