Categories
Breaking news

اسرائیل امارات معاہدے کے چند روز بعد اسرائیل کے غزہ پر فضائی حملے

Advertisement
Advertisement

اسرائیل امارات معاہدے کے چند روز بعد اسرائیل نے غزہ پر فضائی حملے شروع کر دئیےاسرائیل امارات معاہدے کے چند روز بعد اسرائیل نے غزہ پر فضائی حملے شروع کر دئیے۔ اسرائیل کی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے بدھ کو غزہ پر فضائی حملے کیے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ فضائی حملے فلسطینی تنظیم حماس کے ٹھکانوں پر کیے گئے ہیں۔ حملوں کے نتیجے میں فلسطینیوں کی شہادتوں اور دیگر نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

واضح رہے کہ چند روز قبل اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاہدے کے بعد سے غزہ اور مقبوضہ غربِ اردن میں کشیدگی ہے۔ اور اسرائیل مسلسل فلسطینیوں پر حملے کر رہا ہے۔

یروشلم سے صحافی ہریندر مشرا کا کہنا تھا کہ عام طور پر اس طرح کے حملوں پر اسرائیل میں کافی بات ہوتی ہے لیکن اس مرتبہ تقریباً خاموشی ہی رہی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس وقت اپنے فضائی حملوں کی زیادہ تشہیر نہیں کرنا چاہتا کیونکہ اس وقت اس کے نمائندے یو اے ای میں موجود ہیں جو معاہدے کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیل کو دیگر عرب ریاستوں سے بھی تعلقات میں بہتری کی پیش رفت کی امید ہے۔ لہذا اس موقع پر فلسطینوں کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ اسرائیل کے حق میں نہیں ہے۔

ہریندر مشرا کے مطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ حالیہ معاہدے کو اسرائیل اپنی بڑی کامیابی سمجھتا ہے اور اس وقت فلسطینیوں کے ساتھ کسی بڑے تنازع میں الجھ کر معاہدے کے راستے میں رکاوٹیں نہیں کھڑی کرنا چاہتا۔

وزیراعظم نتن یاہو حال ہی میں کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل متحدہ عرب امارات اور تل ابیب کے درمیان براہ راست پروازیں شروع کرنے کے لیے بھی کام کر رہا ہے جو سعودی عرب کی فضائی حدود سے گزریں گی یعنی انھیں اب سعودی تعاون کی بھی ضرورت ہے۔

غزہ اور غربِ اردن کی صورتحال بتاتے ہوئے صحافی ہریندر مشرا کا کہنا تھا کہ عرب ممالک کے ساتھ اسرائیل کے تیزی سے بہتر ہوتے تعلقات پر فلسطینی سخت مایوس اور غصے میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت مقبوضہ غرب اردن کے مزید علاقوں کو اسرائیل میں ضم نہ کرنے کی پیشکش ’ایک مذاق ہے کیونکہ یہ علاقے پہلے ہی مکمل طور پر اسرائیل کے کنٹرول میں ہیں‘۔

اسرائیل میں بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غربِ اردن کے مقبوضہ علاقوں کو ضم نہ کرنے کا جواز مل جانے سے وزیراعظم نتن یاہو کو ایک بڑا سیاسی تحفہ مل گیا ہے کیونکہ ان پر اسرائیل کے اندر یہ دباؤ تھا کہ ان علاقوں کو اسرائیل کا حصہ بنایا جائے۔

صدر ٹرمپ، بنیامین نتن یاہو اور ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید النہیان نے گزشتہ جمعرات کو ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ اس امن معاہدے کے نتیجے میں اسرائیل مقبوضہ غرب اردن کے مزید علاقے اسرائیل میں ضم کرنے کے منصوبے کو معطل کر دے گا۔

فلسطینیوں نے اس معاہدے کو پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے کیونکہ ان کو الگ ریاست قائم ہوتی نہیں دکھائی دے رہی۔

سنہ 1979 میں مصر کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کیا گیا جس کے بعد سنہ 1994 اردن نے بھی اسرائیل کے ساتھ ایسا ہی ایک معاہدہ کر لیا۔

اب یو اے ای تیسرا عرب اور پہلا خلیجی ملک بن گیا ہے جس نے باضابطہ طور اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کر لیے ہیں۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *