Categories
Breaking news

آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 25 جولائی کو منعقد کرنے کا اعلان

آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی

آزاد جموں و کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) جسٹس ریٹائرڈ عبدالرشید نے اعلان کیا ہے کہ خطے کی قانون ساز اسمبلی کے لیے عام انتخابات 25 جولائی کو عیدالاضحیٰ کے تیسرے یا چوتھے روز ہوں گے۔

سول سیکریٹریٹ کے کمیٹی روم میں الیکشن کمیشن کے آئینی طور پر مقرر کردہ اراکین راجا فاروق نیاز اور فرحت علی میر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں کہا کہ تمام تر انتظامات کر لیے گئے ہیں اور یہ یقینی بنایا جارہا ہے کہ دسویں عام انتخابات آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انداز میں ہوں۔

انہوں نے کہا کہ 45 براہ راست نشستوں میں سے 33 آزاد جموں و کشمیر کے علاقے میں واقع ہیں جہاں 28 لاکھ 17 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جن میں 12 لاکھ 97 ہزار خواتین شامل ہیں، جبکہ 12 پاکستان کے دیگر حصوں کی ہیں جس کے 4 لاکھ 30 ہزار 456 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جن میں ایک لاکھ 70 ہزار 931 خواتین شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان 12 نشستوں پر انتخابات کرانے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان اپنے عہدیداران کو ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز (ڈی آر اوز) اور ریٹرننگ آفیسرز (آر اوز) کے عہدے پر آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کے حوالے کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی اقدامات کے لیے آزاد جموں و کشمیر کا الیکشن کمیشن اور اس کی حکومت متعلقہ صوبائی حکومت سے درخواست کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ پولنگ کے دن امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن فوج کی مدد حاصل کرنے کی پوری کوشش کرے گا، تاہم فوج کے جوانوں کی عدم دستیابی کی صورت میں شہری مسلح افواج اور نیم فوجی دستوں جیسے رینجرز، فرنٹیئر کور کو طلب کیا جائے گا۔

سی ای سی نے انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد نئی ترقیاتی اسکیموں کا اعلان کرنے یا اس پر عمل کرنے اور کسی تقرر و تبادلے کرنے پر پابندی لگادی۔

تاہم منتقلی کے ناگزیر معاملات میں حکومت کو کمیشن کی پیشگی اجازت لینی ہوگی۔

ایک صٖحافی کے سوال کے جواب میں الیکشن کمیشن کے رکن راجا فاروق نیاز نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کسی بھی تقرر کی اجازت نہیں دی جائے گی اور امید ظاہر کی کہ حکومت اس پابندی کا احترام کرے گی۔

شیڈول بتاتے ہوئے سی ای سی نے کہا کہ امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی 21 جون کی شام 4 بجے تک آر اوز کو جمع کروائے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اگلے روز صبح 8 بجے سے جانچ پڑتال کی جائے گی اور اسی شام آر اوز کی جانب سے نامزد امیدواروں کی فہرستیں شائع کی جائیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ 27 جون کو شام 2 بجے تک آر اوز کی جانب سے کاغذات نامزدگی کی منظوری یا مسترد ہونے کے خلاف اپیل دائر کی جاسکیں گی اور اپیلوں کی سماعت 28 اور 29 جون کو ہوگی، جبکہ فیصلوں کا اعلان 30 جون اور یکم جولائی کو ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ امیدوار 2 جولائی تک کاغذات نامزدگی واپس لے سکتے ہیں اور مقابلہ کرنے والے امیدواروں کی فہرستیں اگلے روز شائع کی جائیں گی۔

پارٹیوں اور امیدواروں کو انتخابی نشان 4 جولائی کو شام 2 بجے سے پہلے الاٹ کیے جائیں گے اور امیدواروں کی حتمی فہرستیں اسی دن شائع کی جائیں گی، جبکہ 25 جولائی کو صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک پولنگ ہوگی۔

سی ای سی نے سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور ان کے ایجنٹوں کے لیے 16 صفحات پر مشتمل 'ضابطہ اخلاق' بھی پیش کیا جس میں قانونی اور آئینی تقاضوں اور دیگر گائیڈ لائنز پر سختی سے عمل پیرا ہونے کیا کہا گیا ہے۔

کچھ اہم نکات پڑھتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعظم، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور وزرا سمیت کسی بھی امیدوار کو انتخابی مہم کے لیے سرکاری وسائل خصوصاً سرکاری گاڑیوں کا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی ورنہ الیکشن کمیشن انہیں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے گا اور متعلقہ گاڑی ضبط کرلی جائیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ شرط پاکستان کے حکومتی عہدیداروں پر بھی لاگو ہوگی جن میں وزیر اعظم پاکستان، وفاقی وزرا، مشیر اور خصوصی معاونین شامل ہیں۔

ایک صحافی نے جب بتایا کہ آزاد جموں و کشمیر کے سابقہ صدور اور وزرائے اعظم کو ایک، ایک سرکاری گاڑی اور 400 لیٹر فیول یا اس کے برابر ہر مہینے کے اخراجات ملتے ہیں تو انہوں نے 'امید ظاہر کی کہ وہ انتخابی عمل میں اس کا استعمال نہیں کریں گے'۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کووڈ 19 کی صورتحال کی وجہ سے بڑے عوامی اجتماعات اور جلوسوں کی اجازت نہیں ہوگی لیکن ہر امیدوار متعلقہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے منظور کی گئی تاریخ، وقت اور جگہ پر ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کے ساتھ ایک عوامی جلسہ کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر امیدوار 50 لاکھ روپے سے زیادہ انتخابی اخراجات نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ بڑے بڑے ہورڈنگز اور بل بورڈز، بڑے پینافلیکس پوسٹرز کے ساتھ ساتھ وال چاکنگ کی نمائش پر مکمل پابندی ہوگی اور اس کی خلاف ورزی کو غیر قانونی سرگرمی سمجھا جائے گا۔

سی ای سی نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام سیاسی جماعتیں خوشگوار ماحول کو یقینی بنائیں گی اور ذاتی حملوں یا اس طرح کے کسی اقدام سے گریز کریں گی جو خطے کے پرامن ماحول کو خراب کرسکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *