Categories
Breaking news

آئی اے رحمان: انسانی حقوق کا پیکر

لاہور: ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) آج اپنے اعزازی ترجمان اور سابق سیکرٹری جنرل آئی اے رحمان کی وفات پر ناقابلِ بیان صدمے سے دوچار ہے۔

محترم رحمان 1990 سے 2008 تک ایچ آر سی پی کے ڈائریکٹر جبکہ 2008 سے 2016 تک منتخب سیکرٹری جنرل کی حیّیت سے خدمات سرانجام دیتے رہے۔ وہ پاکستان-ہندوستان فورم برائے امن و جمہوریت کے شریک بانی، ساؤتھ ایشینز فار ہیومن رائٹس (ایس اے ایچ آر) کے بیورو رکن، اور ساؤتھ ایشین فورم فار ہیومن رائٹس (ایس اے ایف ایچ آر) کے سابق چئیرپرسن تھے۔ حال ہی میں، وہ ایذارسانی و دہشتگردی پر اذیت رسانی کے خلاف عالمی ادارے (او ایم سی ٹی) کے قائم شدہ ورکنگ گروپ کے رکن اور پاکستان میں اقلیتیوں کے حقوق کے تحفظ کے عوامی کمیشن کے سرپرست اعلیٰ کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ 2003 میں انہیں نیورمبرگ سٹیز انٹرنیشنل ہیومن رائٹس ایوارڈ جبکہ 2004 میں میگسے سے ایوارڈ فار پیس سے نوازا گیا۔

انسانی حقوق کے پیکر، محترم رحمان صاحب پروقار، باضمیر اور نہایت شفیق انسان تھے۔ وہ ان چند لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے 1971 میں بنگلہ دیش (تب مشرقی پاکستان) میں فوجی کاروائی کی مخالفت کی تھی اور جنرل ضیاء الحق کی فوجی حکومت کے دوران، ٹریڈ یونین سرگرمیوں اور شہری آزادیوں میں اپنے خیالات و کام کی بدولت قیدوبند کی صعوبتوں اور ملازمت سے برخاستگی جیسے مصائب سے دوچار ہوئے۔

70 برسوں پر محیط صحافتی زندگی کے دوران، وہ فلم، ادب، سیاست اور انسانی حقوق جیسے موضوعات پر قلم نگاری کرتے رہے۔ ان کے آخری مضمون تک، ان کی تحاریر دانش، مزاح اور توانائی سے بھرپور تھیں۔ جبری گمشدگیوں کی مخالفت، سزائے موت اور جبری مشقّت، یا عورتوں، بچوں، اور مذہبی و لسانی اقلیتوں کے حقوق کے لیے غیرمتزلزل حمایت کے حوالے سے پاکستان میں شاید ہی کوئی ان کے ہم پلّہ ہو۔

ایچ آر سی پی کی چئیرپرسن حنا جیلانی نے کہا ہے: ‘آئی اے رحمان نے مقتدر حلقوں کے سامنے حق کی آواز بلند کرنے کی جو میراث اپنے پیچھی چھوڑی ہے اس نہ صرف عوام کے دلوں میں انسانی حقوق، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے احترام کی قدر پیدا ہوئی ہے بلکہ جن عناصر کو انہوں نے تنقید کا ہدف بنایا ان پر بھی یہ باور ہوا کہ ان کا کردار سماج کے انتہائی پسے ہوئے طبقوں کے لیے کس حد تک نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔’

سیکرٹری جنرل حارث خلیق نے کہا کہ آئی اے رحمان جیسے قومی دانشور کا متبادل پانا ناممکن ہے۔ وہ بے آوازوں کی آواز بنے اور ستم زدوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہوئے۔ ان کی انسانی اقدار، سیاسی بصیرت، وسیع علم اور دانش ایسے تمام افراد کی تعلیم و تربیت کا ذریعہ بنی جنہیں ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع نصیب ہوا، خاص طور پاکستان اور عام طور پر پورے جنوبی ایشیا میں ۔

Original Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *