Categories
Breaking news

آئین اور قانون نہ رہا تو میں وزیراعلیٰ بن کر کیا کروں گا، حمزہ شہباز

آئین اور قانون نہ رہا تو میں وزیراعلیٰ بن کر کیا کروں گا، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ پرویز الہٰی صاحب ہوش کے ناخن لیں، آپ گنڈاسہ لیکر نکلے ہیں تو ہمارے پاس بھی گنڈاسہ ہے، آئین اور قانون نہ رہا تو میں وزیراعلیٰ بن کر کیا کروں گا۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ آج غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹے جارہے ہیں، کل ہم سب ممبران اسمبلی جائیں گے، پرویز الہٰی صاحب گنڈاسے کی سیاست کریں گے، پرویز الہٰی صاحب کے پاس نمبر پورے ہیں تو کل اسمبلی آئیں، آپ کے نمبر پورے ہوئے تو میں دستبردار ہو جاؤں گا۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ عمران نیازی خود کش بمبار بن کر آئین پاکستان پر گرنا چاہتا ہے، عمران نیازی نے خودکش بمبار بن کر سفارتی تعلقات کا ستیاناس کردیا۔

انہوں نے کہا کہ اللّٰہ کی لاٹھی بے نیاز ہے، عثمان بزدار کا بھی احتساب ہونے والا ہے، آپ کی انا کو ابھی تسکین نہیں ملی کیا، آپ کو ایک ایک پائی کا حساب دینا ہو گا۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ اگر کل کسی جان کا نقصان ہو گیا تو ذمہ داری عمران نیازی کی ہو گی، میں کل اپنے تمام ارکان کیساتھ اسمبلی جاؤں گا، اگر انہوں نے قانون کا جنازہ نکال دیا ہے تو کل عوام کے سامنے میدان لگے گا۔

رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ آئین کی پامالی ہوتی تو بنانا ری پبلک وجود میں آتا ہے، ایک ماہ میں ڈالر 8 روپے تک بڑھ گیا، اسٹاک ایکسچینج زمین بوس ہوچکا، آئی ایم ایف کہہ رہا ہے ہم کس سے بات کریں۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ یہ ملک اسٹیبلشمنٹ کا بھی اتنا ہے جتنا ہمارا ہے، یہ ملک عدلیہ کا بھی اتنا ہی ہے جتنا ہمارا ہے، ملک میں آئین و قانون کا راج ہوگا تو ہم سب یہاں عزت کے ساتھ رہ سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کاغذات نامزدگی کا دور ختم ہوجائے تو اگلے روز الیکشن ہوتے ہیں، ہمارے 200 ارکان اسمبلی میں موجود تھے، پرویز الہٰی کے پاس نمبر ہوتے تو کیوں پتلی گلی سے نکلتے، پرویز الہٰی صاحب پرانے کھلاڑی اور بادشاہ ہیں۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ آپ آئین اور قانون سے کھلواڑ کرتے رہے، آپ کو وزیر اعلیٰ کا امیدوار بنایا گیا توآپ پھول لے کر زرداری صاحب کے گھر پہنچ گئے، اور اگلے ہی روز دوسری جماعت کے ساتھ جا ملے۔

قومی خبریں سے مزید

Original Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *